پاکستان کے کارپوریٹ ریگولیٹر سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی ڈیجیٹل اور انتظامی اصلاحات مثبت نتائج لارہی ہیں۔
رواں برس کمپنیوں کی رجسٹریشن میں نمایاں اضافہ اور کاروباری شفافیت میں بہتری آئی ہے۔ ماضی میں ادارے کو قومی سطح پر وزیرِ اعظم نے “ریفارمز چیمپئن” کے اعزاز سے بھی نوازا۔
کمیشن کے مطابق اصلاحات کے بعد کاروبار شروع کرنے کے عمل میں آسانی پیدا ہوئی، اصلاحات کے نتیجے میں کاروبار سے منسلک تعمیلی اخراجات کم ہوئے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے مطابق سال 2020 کے مقابلے میں کمپنی رجسٹریشن میں 51 فیصد اضافہ ہوا، مالی سال 2024–25 کے دوران 35,087 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ گزشتہ سال 27,542 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں جبکہ رواں مالی سال میں جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران 21,542 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
99.9 فیصد کمپنیوں کا اندراج مکمل طور پر آن لائن نظام کے ذریعے ہوا۔ وزیرِ اعظم نے کاروباری ماحول کو بہتر بنانے میں ادارے کے کردار کو بھی سراہا۔ اصلاحات کا مرکزی نکتہ کمپنی رجسٹریشن کے عمل کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن ہے۔
کمپنیاں ایس ای سی پی کے ای زی فائل نظام کے ذریعے رجسٹر کی جا رہی ہیں، ای زی فائل نظام فیڈرل بورڈ آف ریونیو، ای او بی آئی اور صوبائی محکموں سمیت مختلف اداروں سے منسلک ہے۔ حکومت کے ون ونڈو نظام کے ساتھ انضمام کے بعد اندراج کا سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے۔
ڈیجیٹل نظام سے مختلف دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت ختم، وقت و لاگت میں نمایاں کمی آئی۔ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے اقدامات کو عالمی سطح پر بھی پذیرائی ملی۔