ملک کے "قومی مفادات" کا دفاع کرنے کیلئے پر عزم ہیں، ایرانی فوج کا اعلان

مظاہروں کے دوران سیکڑوں افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں اور انٹرنیٹ سروس بند ہے


ویب ڈیسک January 11, 2026

تہران: ایران کی فوج نے کہا ہے کہ وہ ملک کے "قومی مفادات" کا دفاع کرے گی کیونکہ حکومت مخالف مظاہرے ملک بھر میں شدت اختیار کر گئے ہیں۔

مظاہروں کے دوران سیکڑوں افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں اور انٹرنیٹ سروس بند ہے۔

فوج نے ایک بیان میں اسرائیل اور "دشمن دہشت گرد گروہوں" پر الزام لگایا کہ وہ عوامی تحفظ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ فوج اور دیگر مسلح افواج دشمن کی حرکات پر نظر رکھتے ہوئے ملکی اسٹریٹجک انفراسٹرکچر اور عوامی املاک کا تحفظ کریں گی۔

مظاہروں کی بنیادی وجہ مہنگائی اور زندگی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔ تہران، رشت، تبریز، شیراز اور کرمان سمیت کئی شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور سابق بادشاہت کے حق میں نعرے لگائے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اب تک 51 مظاہرین، جن میں 9 بچے بھی شامل ہیں، سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق 200 "ہنگامہ آرائی کے رہنما" گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انٹرنیٹ بندش کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ اقدام انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو چھپانے کے لیے کیا گیا۔

ایران کے اٹارنی جنرل محمد موحدی آزاد نے خبردار کیا کہ مظاہروں میں حصہ لینے والے "خدا کے دشمن" تصور کیے جائیں گے، جو موت کی سزا کے مترادف ہے۔

ایران کی ایلیٹ فورس، اسلامی ریولوشنری گارڈ کور (IRGC) نے بھی کہا کہ 1979 کی انقلاب کی کامیابیوں اور ملک کی سلامتی کا تحفظ "ریڈ لائن" ہے۔

مقبول خبریں