لاہور:
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود اچکزئی نے کہا ہے کہ مجھے خطرہ ہے دو چار مہینے بعد پاکستان کے کچھ علاقے علیحدگی کا اعلان کردیں گے۔ میں پانچ بڑوں کو نہیں مانتا چار کو بڑا مانتا ہوں اور چار بڑوں کی وجہ سے پانچواں بڑا آیا۔
لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت کے ماحول میں بھی لاہور کے لوگوں نے ہمارا بہت اچھا استقبال کیا، ہم لاہور فتح کرنے نہیں بلکہ آٹھ فروری کے حوالے سے تحریک چلانے کیلئے آئے تھے۔ یہاں سب اپنی اپنی ڈیوٹی کر رہے ہیں، گاڑیاں ٹوٹی تو پولیس اپنی ڈیوٹی کررہی ہے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جب سے آئین بنا جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں نے اسے توڑا، بعض لوگوں کو یہ آزادی حاصل ہے جب چاہیں آئین کو پھاڑ دیں جب چاہیں سیاستدانوں کو پھانسی دے دیں۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان ایک آخری ایس و ایس پیغام ہے، جب جہاز ڈوب رہا ہوتا ہے تو ایس او ایس کال دی جاتی ہے ایسے ہی پاکستان ڈوب رہا ہے، آٹھ فروری کو سب اپنے اپنے حساب سے احتجاج کریں۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے کارکن فرسٹریٹ ہیں وہ اپنے راہبروں کو بھی گالیاں دے رہے ہیں، ہم نے ان کو منع کیا ہے گالیاں نہ دیں حالانکہ ہم تحریک انصاف کے نہیں ہیں، ہم نے ان کو سمجھایا آپ تحریک چلائیں، پاکستان ہمارا گھر ہے، لوگ روزگار کمانے باہر جا رہے ہیں کیونکہ پاکستان میں روزگار نہیں ہے، جو آدمی ایمان بیچتا ہے اس کو یہاں محب وطن کہا جاتا ہے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ نو مئی کے روز کور کمانڈر ہاوس کھلا ہوا کیوں تھا، بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے جوڈیشل کمیشن بنائیں کیوں نہیں بناتے، آٹھ فروری کا ایجنڈا صرف عمران خان کی رہائی نہیں ہے، اس وقت پورے ملک میں فسطائیت ہے، پلان یہ ہے جہاں ہم کرسکتے ہیں وہاں جلوس نکالیں گے اور ہڑتال کریں گے
انہوں نے مزید کہا کہ یہ کبھی نہیں ہوا دنیا کی تاریخ میں کہ ایک چیف جسٹس سیاسی جماعت کا نشان چھین لے، بندوق کے زور پر طاقت کے زور پر دہشت گردی کی گئی، جو شخص بکرے کی طرح بکتا ہے وہ محب وطن پاکستانی ہے، جو شخص آئین کے ساتھ یا اپنا حق لینا چاہتا ہے وہ دہشت گرد بن جاتا ہے، خواتین کو سڑک پر گھسیٹنا تھانے لیکر جانا کہیں بھی نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت جتنے بھی بحرانوں میں ہے وہ سب اندرونی ہیں، نا انصافیاں گھروں کو توڑتی ہیں اگر ملک بے انصافی سے چلے گا تو ملک کا کیا ہوگا۔ یہ خطہ بہت خطرناک جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے، ہم نے آج تک پارلیمنٹ میں بحث بھی نہیں کی کہ ہمارے اردگرد کیا ہو رہا ہے، ووٹ کو عزت اور روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگانے والے ایسی ترمیم کرتے ہیں جس سے ملک تباہ ہوتا ہے۔