پبلک پروکیورمنٹ میں جامع اصلاحات، ای پروکیورمنٹ نظام مضبوط بنانے کا اعلان

ریگولیٹری اصلاحات کے ذریعے یکساں بیڈنگ دستاویزات متعارف کرائی گئیں، ایم ڈی پیپرا حسنات احمد قریشی


ویب ڈیسک January 12, 2026

اسلام آباد:

مینیجنگ ڈائریکٹر پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) حسنات احمد قریشی نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم کی ہدایت پر ملک بھر میں پبلک پروکیورمنٹ کے نظام میں بنیادی اصلاحات کا آغاز کر دیا گیا ہے، جن کا مقصد شفافیت، استعداد اور جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال ہے۔

ایم ڈی پیپرا کے مطابق وزیرِ اعظم نے ریفارمز کی منظوری دی، جس کے بعد انسٹی ٹیوشنل ریفارمز کے تحت پروکیورمنٹ کے ماہرین کو شامل کیا گیا اور آزادانہ پروکیورمنٹ ایکسپرٹس تیار کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ریگولیٹری اصلاحات کے ذریعے یکساں بیڈنگ دستاویزات متعارف کرائی گئیں کیونکہ اس سے قبل مختلف ادارے مختلف دستاویزات استعمال کر رہے تھے، جس سے پیچیدگیاں پیدا ہو رہی تھیں۔

حسنات احمد قریشی نے بتایا کہ پروکیورمنٹ کے عمل میں سب سے زیادہ مشکلات کیپیسٹی بلڈنگ میں پیش آتی ہیں، اسی لیے گزشتہ سال 2500 سے زائد افراد کو تربیت فراہم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ای پروکیورمنٹ کے فروغ کے لیے وفاق اور تینوں صوبوں میں ای پیڈز (e-PADS) کے لازمی اور مکمل نفاذ کو ممکن بنایا گیا ہے۔

ایم ڈی پیپرا کے مطابق اب تک ای پیڈز پر 9846 سرکاری اور 600 غیر ملکی کمپنیوں سمیت 43 ہزار سے زائد سپلائرز رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران ای پیڈز پر 1408.58 ارب روپے مالیت کی 5 لاکھ 26 ہزار 271 ٹرانزیکشنز مکمل ہوئیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ای پیڈز کو ایف بی آر، ایس ای سی پی، پاکستان انجینئرنگ کونسل، فنانشل اکاؤنٹنگ اینڈ بجٹنگ سسٹم، صوبائی ریونیو اتھارٹیز اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے ساتھ مکمل طور پر مربوط کر دیا گیا ہے، جبکہ آڈیٹر جنرل، نیب، انجینئرنگ کونسل اور مسابقتی کمیشن کے لیے خصوصی ڈیش بورڈز بھی فراہم کیے گئے ہیں۔

ایم ڈی پیپرا کا کہنا تھا کہ ان اصلاحات سے سرکاری خریداری کا نظام مزید شفاف، مؤثر اور عالمی معیار کے مطابق ہو جائے گا۔

مقبول خبریں