سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطے کے امن کیلئے سنگین خطرہ ہے، احسن اقبال

وزیر منصوبہ بندی کی زیر صدارت اجلاس میں نیشنل واٹر سیکیورٹی پر فوری اقدامات کا فیصلہ


ویب ڈیسک January 13, 2026

اسلام آباد:

وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطے کے امن اور پاکستان کے آبی حقوق کیلئے سنگین خطرہ ہے۔

احسن اقبال کی زیر صدارت ٹاسک فورس برائے نیشنل واٹر سیکورٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیرآبی وسائل  مياں محمد معین وٹو بھی شریک ہوئے۔ اجلاس کے دوران احسن اقبال نے وزارت آبی وسائل کے تحت خصوصی 'ورکنگ گروپ' قائم کرنے اور 15 دن  میں  قابل عمل سفارشات پلاننگ کمیشن کو پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہندوکش ہمالیہ ریجن  میں 2020-2011 کی دہائی میں برف پگھلنے کی شرح میں 65 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا ہے، سیاچن گلیشیئر سالانہ 50 سے 60 میٹر کی رفتار سے پگھل رہا ہے، ہمالیہ کے پہاڑوں میں برف پگھلنے کی شرح 30 میٹر سالانہ تک پہنچ گئی ہے۔

وزیر منصوبہ بندی نے پانی کی پالیسیوں کو عملی منصوبوں میں بدلنے کے لیے فوری ٹیکنیکل ورکشاپ بلانے کی ہدایت کردی، انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی سے گلیشئرز کے پگھلاؤ میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، 1960 سے اب تک گلیشیئرز کی 23 فیصد برف پگھل کر ضائع ہوچکی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان کو پانی کے سنگین اور طویل المدتی بحران کا خدشہ ہے،بھارت کی آبی جارحیت کا مقصد پاکستان کو پانی کے بحران سے دوچار کرنا ہے، دریاؤں کے بہاؤ میں بڑھتی غیر یقینی صورتحال پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے، پانی کا تحفظ ہی فوڈ سیکیورٹی اور معاشی استحکام کی ضمانت ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان نیشنل واٹر پالیسی پر ہم آہنگی کو ہر صورت مضبوط بنایا جائے، واٹر سیکیورٹی صرف ایک شعبہ نہیں بلکہ ملکی بقا اور خودمختاری کی بنیاد ہے، ٹاسک فورس پاکستان کو درپیش چیلنجز کے مؤثر حل تجویز کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ پاکستان کا 80 فیصد پانی دریاؤں سے حاصل ہوتا ہے، آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث پاکستان کو شدید آبی قلت کا سامنا ہے، بڑھتی آبادی اور موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں واٹر مینجمنٹ کے مالیاتی ماڈل کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ ملک میں نئے ڈیمز کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے، دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز پاکستان میں پانی کے ذخائر بڑھانے میں سنگِ میل ثابت ہوں گے، چیئرمین واپڈا، ارسا، نیشنل فلڈ کمیشن اور تمام صوبے ورکنگ گروپ کو اپنی ماہرانہ تجاویز فراہم کریں،  پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ٹائم ٹیبل مقرر کیا جائے۔ آبی چیلنجز اور خطرات کا تدارک ترجیحی بنیادوں پر کیا جائے گا۔

مقبول خبریں