اسلام آباد:
سپریم کورٹ نے چار سالہ بچے کے قتل کے الزام میں سوتیلی ماں کی ضمانت منظور کرلی۔
مدعی کے وکیل کے مطابق ملزمہ مدعی مقدمہ کی دوسری اہلیہ ہے، مدعی کا کہنا ہے کہ وہ بچے کو صحیح سلامت گھر چھوڑ کر گیا تھا، اسکول سے واپسی پر دیکھا کہ گھر میں بچے کی لاش پڑی ہے، ملزمہ نے گھریلو جھگڑے پر بچے کو زہریلی چیز کھلا کر گلا دبایا۔
ملزمہ کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ملزمہ کے خلاف نہ کوئی گواہ ہے نہ ثبوت ہے، خاتون کو جیل میں بھی ایک بچے کی ولادت ہوئی ہے، متوفی بچہ پہلے ہی دمہ کا مریض تھا۔
جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ سے پتہ چلتا کہ موت قدرتی نہیں تھی، جسٹس ملک شہزاد نے کہا کہ بچے کو ماں نے مارا کیسے پتہ چلے گا؟ آدھا کیس مدعی اور آدھا پولیس خراب کرتی ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، ملزمہ کے خلاف تھانہ ننکانہ صاحب میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔