خدا کا وجود (تیسری قسط)

سائنس کے جتنے بھی کارنامے ہیں وہ اہلِ تحقیق اور اہلِ سائنس نے فطرت میں سے discover کیے ہیں


[email protected]

میں ملحدین کے دلائل کو کیوں بے وزنی اور کھوکھلا سمجھ کر مسترد کرتا ہوں اور کیوں اﷲ کے وجود کو اور اس کی صفات کو دل کی گہرائیوں سے تسلیم کرتا ہوں۔ اس کی وجہ بتائے دیتا ہوں۔میں ایک باشعور اور پڑھا لکھا شخص ہوں، میرے گھر کے صحن میں علی الصبح سورج کی روشنی پڑتی ہے جب کہ رات کو وہی سورج کہیں اوجھل ہوجاتا ہے اور آسمان پر چاند اور ستارے نمودار ہوجاتے ہیں۔

یہ دیکھ کر میرے ذہن میں تجسّس پیدا ہوتا ہے کہ یہ سورج، چاند، ستارے کیسے وجود میں آئے؟ کالج اور یونیورسٹی میں مجھے ایک دو ایسے ٹیچر ملے، جو مذہب کا مذاق اڑاتے تھے۔ دو تین بار وقت لے کر میں ان کے دفتر گیا اور ان سے پوچھا ’’سر! مذہبی لوگوں میں ہزار خامیاں ہوں گی مگر یہ سورج، چاند اور یہ زمین کیسے وجود میں آئے اس کی وضاحت فرما دیجیے‘‘۔ ایک نے ڈارون کی تھیوری کا ذکر کیا۔ میں نے ایک دو سوال کیے تو انھوں نے فرمایا کہ میں نے ابھی مکمل تھیوری نہیں پڑھی۔ مکمل پڑھ کر آپ کو جواب دوں گا۔ میں نے کہا کہ سائنسدان خود کہتے ہیں کہ ابھی تک کوئی ایک بھی شہادت ایسی نہیں ملی جو انسان کی تخلیق کے بارے میں ڈارون کے نظریئے کو ثابت کرے یا اس کی تصدیق کرے۔ یہ تو صرف ایک قیاس ہے۔

اس پر وہ خاموش رہے اور انھوں نے مولویوں کے خلاف کچھ لطیفے سنا کر بات ختم کردی۔ دوسرے پروفیسر صاحب کے پاس جاکر پوچھا کہ ’’سر! یہ سورج، چاند، زمین، اور یہ انسان، اُس کے حیرت انگیز اعضاء اور اس کا شعور کس نے تخلیق کیا ہے؟ وہ فرمانے لگے دیکھیں ہر چیز ذرّے سے پیدا ہوتی ہے اور خلیے نے ہی پھیل کر یہ شکلیں اختیار کرلی ہیں۔ میں نے پوچھا، سر! ذرّے یا خلیے میں جان یا زندگی کیسے پیدا ہوئی ہے؟ انھوں نے فرمایا کہ فی الحال سائنس کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں۔ میں نے پوچھا آپ کائنات کا خالق کس کو سمجھتے ہیں؟ کہنے لگے ہم سمجھتے ہیں ہر چیز خودبخود نیچر (فطرت) کے زور پر پیدا ہوئی ہے۔

پھر میں نے پوچھا، دنیا کے کسی کونے میں کوئی ایک پل یا ایک عمارت کا ایک کمرہ خودبخود وجود میں آیا ہے تو بتادیجیے۔ وہ خاموش رہے تو میں نے پوچھا ، سر! کیا نیچر یا فطرت شعور رکھتی ہے؟ اس کا انھوں نے دیانتدارانہ جواب دیا کہ ’’نہیں، فطرت شعور کی حامل نہیں ہے‘‘۔اس پر میں نے کہا، سر! جو نیچر خود شعور سے محروم ہے وہ انسان کو شعور کیسے بخش سکتی ہے؟ اس پر وہ فرمانے لگے ’’ہاں ٹھیک کہتے ہو،کائنات اور انسان کی تخلیق کی کچھ گھتیاں ابھی سلجھنے والی ہیں اور سائنسدان جنھوں نے ایٹم بم، جہاز اور کمپیوٹر بنالیے ہیں، وہ یہ بھی سلجھالیں گے‘‘۔ میں نے کہا ’’سر! ابھی تک سائنسدان انسانی خون کا ایک قطرہ تخلیق نہیں کرسکے۔ سائنس کے جتنے بھی کارنامے ہیں وہ اہلِ تحقیق اور اہلِ سائنس نے فطرت میں سے discover کیے ہیں۔

یعنی انھوں نے ریسرچ کے ذریعے فطرت کے کچھ اصول اور کچھ صلاحیّتیں دریافت کی ہیں اور ان کی بنیاد پر بہت سی (مفید اور مضر) چیزیں بنالی ہیں۔ بلاشبہ وہ ایجادات بڑی زبردست ہیں مگر کیا آپ یہ فرماسکتے ہیں کہ فطرت کے وہ اصول یا قوانین مثلاًکششِ ثقل کا اصول کس سائنسدان نے بنایا ہے؟ کہنے لگے کسی سائنسدان نے نہیں بنایا، مگر سائنسدان نے تحقیق کے بعد دریافت کیا ہے۔ میں نے پوچھ لیا ’’سر! پھر یہ بتادیں کہ کششِ ثقل سمیت فطرت اور کائنات کے قوانین کو تخلیق کس نے کیا ہے؟ کہنے لگے’’ہاں کچھ سائنسدان اب یہ کہتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ کوئی Meta physical force (مافوق الفطرت قوت) موجود ہو‘‘۔

اُن کے بعد بھی میں بہت سے ملحد پروفیسر صاحبان سے ملتا رہا۔ کچھ سائنسدانوں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ ان کے ہاں یا تو قیاس اور گمان کی بنیاد پر گھڑی گئی تھیوریاں ہیں، جن کی صداقت کا کوئی ثبوت موجود نہیں یا پھر بے یقینی کی صورتِ حال ہے۔ مگر اب وہ کسی مابعدلطبیعاتی قوّت یا ہستی کے امکان کو تسلیم کرتے ہیں مگر کچھ ابھی تک وسوسوں اور گمانوں کے اندھیروں میں ہی ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔ اُن کی یہ بات کہ یہ دنیا اور پوری کائنات خودبخود پیدا ہوگئی یا اسے فطرت نے تخلیق کیاہے، عقل اور شعور کو بالکل ہی اپیل نہیں کرتی ، اور کوئی بھی عقل اور شعور رکھنے والا شخص خود بخود پیدا ہونے والی بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

مجھے سورج، چاند، زمین، کائنات کے اصولوں اور انسانی جسم کے اندر چلنے والی حیرت انگیز فیکٹریوں کی تخلیق کے بارے میں ملحد مفکروں یا سائینسدانوں کی جانب سے کوئی واضح جواب نہیں مل سکا، یعنی ملحدانہ نظریۂ حیات ایسی تھیوریاں پیش کرتا ہے جو نہ ثابت ہوسکیں، اور نہ انسانی عقل انھیں ماننے کے لیے تیار ہے۔

میں اسی جستجو اور حقیقت کی تلاش میں تھا کہ آوازسنائی دی ، اِدھر آو، ہم بتاتے ہیں اس کائنات کا خالق کون ہے! دیکھا تو وہ ایک ایسی پاکیزہ کردار شخصیّت کی آواز تھی، جس نے اپنی چالیس سالہ زندگی میں کبھی معمولی سا جھوٹ بھی نہیں بولا تھا۔ اس نے اپنی بات کا آغاز کرنے سے پہلے بستی والوں کو بلا کر پوچھا ’’اگرمیں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے دشمن پہنچ چکے ہیں تو کیا تم مان لوگے‘‘ سب نے بیک زبان کہا ’’آپ ایک سچّے انسان ہیں، اس لیے ہمیں یقین ہے کہ آپ سچ ہی بولیں گے، اور ہم آپ کی ہر بات تسلیم کریں گے‘‘۔

پھر اس سو فیصد سچے انسان نے ایک ایسی بات کہہ دی کہ سب حیران و پریشان ہوگئے۔ اُس پاکیزہ کردار انسان نے کہیں سے تعلیم حاصل نہ کی تھی۔ سوائے شام کے کوئی اور ملک بھی نہیں دیکھا تھا۔ مگر اب اس نے انسانی ذہن کے سب سے بڑے سوال کا جواب بتانا شروع کردیا، اب اس نے صرف قریش یا اہلِ مکہ نہیں، بلکہ دنیا بھر کے انسانوں کو مخاطب کرنا شروع کردیا۔ اور دنیا بھر کے انسانوں کو زندگی گزارنے کے طریقے اور ضابطے بتانے شروع کردیئے۔ اور جب اس نے یہ کہا کہ اس کائنات اور انسانوں کا خالق اور پالنہار صرف ایک اللہ ہے، وہ ہر چیز کا خالق بھی اور مالک بھی، اس لیے صرف اس کے آگے سجدہ کرو اور اسی سے مانگو۔ وہ تمہارے ہر عمل اور فعل کا حساب رکھتا ہے، اس زندگی کے بعد سب کو اس کے حضور پیش ہونا ہوگا اور وہ دنیا میں ہمارے اعمال کو دیکھ کر سزا اور جزا دے گا۔ تو اس بستی کے بڑوں کو اپنی سرداریاں خطرے میں نظر آئیں۔ لہٰذا وہ سب اس کی جان کے دشمن بن گئے۔

جب سرداروں نے پوچھا کہ آپ ایسی باتیں کیوں کرنے لگے ہو تو جواب آیا’’کائنات کے خالق نے انسانوں تک اپنا پیغام اور ہدایات پہنچانے کے لیے مجھے اپنا نمایندہ مقرر کیا ہے اور اﷲ کا فرشتہ مجھے وہ پیغام پہنچاتا ہے جو میں آپ کو بتارہا ہوں‘‘۔ پیغام سنایا گیا تو سننے والے حیران و ششدر رہ گئے، یہ تو کوئی انوکھا اور حیرت انگیز کلام تھا۔ عرب کے بڑے بڑے لسّان جنھیں اپنی فصاحت وبلاغت پر ناز تھا، اس پیغام کا طرزِ تخاطب اور حسنِ کلام دیکھ کر حیرت میں ڈوب گئے۔ ایسا کلام کسی نے پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔ پیغامبر کے دشمن بن جانے والے سردار اب بھی اس کی صداقت وامانت پر انگلی نہیں اٹھاتے تھے، اس پر انھیں پورا یقین تھا، پھر بھی پورا کھوج لگایا گیا کہ یہ کلام کہاں سے لکھوایا جاتا ہے مگر کچھ بھی نہ ملا۔ پیغام بر چالیس سال تک اس بستی میں انھی لوگوں کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کی زبان سے وہ اچھی طرح واقف تھے اسی لیے ان سب کو معلوم ہوگیا کہ اس کی اپنی زبان اور انداز اور ہے اور جسے یہ اﷲ کا کلام کہتا ہے ،اس کا اسلوب انداز، زبان اور طرزِ کلام بالکل مختلف ہے۔

اُس کلام میں ایک جلال ہے، وہ ایک commanding voice ہے۔ اس کا انداز authoritartive  ہے۔ اس کا ایک ایک فقرہ بتاتا ہے کہ اس کلام کا خالق مخاطبین سے ایسے بات کررہا ہے جیسے حاکم اپنی رعایا سے اور مالک اپنے غلاموں سے کرتا ہے، اس کلام کا جلال اور کمانڈنگ طرزِ تخاطب پہلے فقرے سے لے کر آخری فقرے تک ایک جیسا رہتا ہے۔

تئیس سال تک آسمانوں سے پیغام آتا رہا۔ اس دوران پیغامبر کو شدید مظالم سہنے پڑے اور ذاتی صدموں سے بھی گذرنا پڑا مگر اس پیغام کا شکوہ اور جلال اسی طرح برقرار رہا اور اس میں انسانی صدمات یا جذبات کی معمولی سی بھی جھلک نظر نہیں آتی۔ اس کے ایک ایک لفظ سے یہ واضح نظر آتا ہے کہ پیغام بھیجنے والے کی سطح اپنے مخاطبین سے بہت بلند ہے۔ سننے والوں میں دو باتوں پر مکمل اتفاق تھا کہ اپنے آپ کو اﷲ کا نمایندہ قرار دینے والا شخص بڑے سے بڑے فائدے کے لیے بھی جھوٹ نہیں بولتا اور دوسرا یہ کہ جسے وہ آسمانوں سے اترنے والا کلام کہتا ہے وہ اس کا نہیں ہے۔ اس کا اسلوب اور معیار بہت ہی مختلف اور بہت ہی بلند ہے۔ وہ دل سے مانتے تھے کہ یہ نہ صرف پیغامبر کا نہیں بلکہ یہ کسی بھی انسان کا کلام نہیں لگتا۔

(جاری ہے)

مقبول خبریں