شہریوں کے جان ومال کے محافظ افسران ہی لٹیرے بن گئے، پولیس افسران پر دھمکیاں دیکر لاکھوں روپے رشوت وصولی کا الزام سے متعلق شہری نے درخواست دائر کردی۔
متاثرہ شخص محمد ناصر نے پولیس افسران کے خلاف مقدمے کیلئے درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ سب انسپکٹر اللہ رکھا اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر جمیل الدین کیخلاف مقدمہ درج کرایا جائے۔ شہری ناصر کا اس کے بھائی ارشد و دیگر کے ساتھ کریم آباد میں جھگڑا ہوا تھا۔
ارشد اور دیگر نے درخواستگزار کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ درخواست گزار نے ارشد و دیگر کیخلاف پولیس حکام کو شکایت کی۔ پولیس نے ملزمان کے بجائے درخواستگزار کے خلاف ہی مقدمہ درج کردیا۔
پولیس افسران درخواستگزار کو دیگر مقدمات میں بھی نامزد کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ پولیس افسر درخواستگزار کو کچے کا ڈاکو ظاہر کرکے مقدمات میں فٹ کرنے کی دھمکی دی ہے۔
پولیس افسران نے درخواست گزار سے 10 لاکھ روپے اور آئی فون بطور رشوت وصول کی، رشوت وصولی کے بعد بھی مزید 50 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
شکایت پر اللہ رکھا کو ملازمت سے برطرف اور جمیل الدین کی تنزلی کردی گئی ہے۔ پولیس افسران کیخلاف مقدمہ درج نہیں کیا جارہا۔ درخواست میں آئی جی سندھ، ایس ایس پی سینٹرل اور حیدری و گلبرگ کے ایس ایچ اوز کو فریق بنایا گیا ہے۔