محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ کی جانب سے پورے صوبے میں میٹرک کی سطح پر سلیبس ایگزامینیشن پیٹرن تبدیل کیے جانے کے بعد "یونیفارم ایگزامینیشن سلیبس" (یو ای ایس) اور ماڈل پیپر کے اجراء میں تاخیر ہوگئی ہے۔
ایس ایل او "اسٹوڈنٹ لرننگ آئوٹ کم" کی بنیاد پر تیار کیا گیا نیا ماڈل پیپر تاحال جاری نہیں ہوسکا ہے جس سے کراچی سمیت پورے صوبے میں اس بار سال 2026 میں نویں اور دسویں کے سالانہ امتحانات دینے والے 10 لاکھ کے قریب طلبہ اپنے امتحانی پرچوں examination paper کی ترتیب اور اسٹریکچر کے حوالے ناواقف ہیں۔
سندھ میں نویں اور دسویں کلاسز کو پڑھانے والے ہزاروں اساتذہ یہ جانتے ہیں کہ اس بار امتحانی پرچے کس طرح آئیں گے اور نا لاکھوں طلبہ اس بات سے واقف ہیں کہ ان کے امتحانی سوالات کا پیٹرن کیا ہوگا جس کے سبب امتحانات لینے والی اتھارٹی میں بھی ایک بحرانی کیفیت ہے نویں اور دسویں جماعتوں کے یہ ایگزامینیشن ماڈل پیپر محکمہ اسکول ایجوکیشن کے ذیلی ادارے سندھ سیکنڈری ایجوکیشن امپرومنٹ پروجیکٹ(ایس ایس ای آئی پی) کو جاری کرنے ہیں جس میں تاخیر ہورہی ہے۔
" ایکسپریس " نے اس سلسلے میں ایس ایس ای آئی پی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر رضوان سومرو سے رابطے کی کوشش کی تاہم انھوں نے فون ریسیور نہیں کیا۔
اس ادارے کی ایک اور افسر عطا حسین لاکھو سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن کے ایک اور ذیلی ادارے DCAR کی جانب سے انٹرمیڈیٹ کے امتحانی پرچے بھی یونیفارم ایگزامینیشن سلیبس کے تحت تیار کیے جارہے ہیں اور انٹرمیڈیٹ میں بھی اس بار کچھ مضامین کے امتحانی پرچوں "ایس ایل او" کی بنیاد پر تیار کیے جارہے ہیں جس کے ماڈل پیپر ابھی آنے باقی ہیں جس کی وجہ سے کچھ تاخیر ہورہی ہے۔
تاہم استفسار پر ان کا کہنا تھا کہ جمعہ کو ایک اجلاس یے جس کے بعد ہم نویں اور دسویں کے ماڈل پیپر امتحانی بورڈز کے لیے آن جاری کردیں گے "۔
واضح رہے کہ ممکنہ طور پر اس بار سال 2026 کے میٹرک کے سالانہ امتحانات مارچ میں منعقد ہونے ہیں اور اس لحاظ سے امتحانات میں اب ڈیڑھ ماہ کا وقت باقی ہے۔
یاد ریے کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ نے 23 دسمبر کو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے پورے سندھ میں نویں اور دسویں کی سطح پر "انگریزی، ریاضی، طبعیات، کیمیا اور حیاتیات " کے مضامین کے پرچے یونیفارم ایگزامینیشن سلیبس کے تحت تیار کرنے کے سلسلے میں این او سی جاری کی تھی اور کہا تھا کہ یہ فیصلہ ڈائریکٹوریٹ آف کرکیکولم ، اسسمنٹ اینڈ ریسرچ DCAR کی جانب سے غور و خوص کے بعد کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کو بھی اب 22 روز گزر چکے ہیں۔