پنجاب کے ضلع بہاولپور کی تحصیل خیرپور ٹامیوالی میں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ نوجوان لڑکی کی قبر کھود کر اس کی لاش کی بے حرمتی کرنے والا ملزم ‘مقابلے’ کے دوران اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا۔
پولیس ترجمان کے مطابق بستی سرداراں کا رہائشی ملزم عبدالواحد عرف کالا اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ گرفتاری کے خوف سے حمید آباد کے علاقے میں چھپا ہوا تھا، رات گئے پولیس پارٹی نے اس جگہ پر چھاپہ مارا، چھاپہ مار پارٹی کو دیکھ کر ملزمان نے مبینہ طور پر فائرنگ کردی۔
پولیس ترجمان نے دعویٰ کیا کہ فائرنگ رکنے کے بعد پولیس نے ملزم کو شدید زخمی حالت میں پایا جب کہ اس کے ساتھ ساتھی فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہو گئے۔
ترجمان نے کہا کہ کراس فائر کے دوران ملزمان کی جانب سے چلائی گئی گولی ہیڈ کانسٹیبل علی رضا کو لگی تاہم بلٹ پروف جیکٹ پہننے کی وجہ سے وہ محفوظ رہے۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے ریسکیو 1122 کی ٹیم کو جائے وقوع پر بلایا جس نے زخمی ملزم کی جان بچانے کی کوشش کی تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔
پولیس نے بتایا کہ فرار ہونے والے ملزمان کے خلاف ایف آئی آر نمبر 9/26 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور ان کی تلاش جاری ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ قبر اور لاش کی بے حرمتی کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس ترجمان کے مطابق اتوار کی شام 16 سالہ لڑکی کی تدفین کی گئی تھی تاہم پیر کی صبح قبر سے لاش غائب تھی۔
لڑکی کی لاش کو مبینہ طور پر بے حرمتی کے بعد قریبی کھیتوں میں پھینک دیا گیا تھا، پولیس نے مزید کہا کہ لڑکی کے اہل خانہ سمیت علاقہ مکینوں سے بھی تفتیش کی جبکہ لڑکی کی موت کرنٹ لگنے سے ہوئی یا اسے قتل کیا گیا اس کی بھی تحقیقات کی جاری ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کی فرانزک رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔