’یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے‘
ان اشعار کے خالق اردو زبان کے معروف غزل گو اور سلام گو شاعر محسن نقوی کی 26 ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔
محسن نقوی 5 مئی 1947 کو ڈیرہ غازی خان کے محلّے سادات میں پیدا ہوئے، ان کا مکمل نام سید غلام عباس نقوی تھا تاہم شعر کہنے کے لیے ‘محسن’ بطور تخلص استعمال کرتے تھے۔
’کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھے
شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘
محسن نقوی محض ایک شاعر نہیں بلکہ ایک عہد کا نام تھے۔ ان کی شاعری کے دو بڑے پہلو ہیں۔ ایک طرف وہ رومانوی لب و لہجے کے شاعر ہیں جہاں ان کی غزلوں میں ہجر و وصال کے جدید اور اچھوتے رنگ ملتے ہیں، تو دوسری طرف وہ مدحِ اہلِ بیتؑ اور مرثیہ نگاری میں ایک بلند مقام رکھتے ہیں۔
ان کی شاعری میں معاشرتی ناانصافیوں کے خلاف احتجاج اور حق گوئی کا عنصر بھی نمایاں ہے، اسی لیے انہیں ’قتیلِ فرات‘ بھی کہا جاتا ہے۔
محسن نقوی کو 1994ء میں صدراتی تمغہ برائے حسن کارکردگی (پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ) سے نوازا گیا تھا۔
محسن نقوی کو 15 جنوری 1996 کی ایک شام لاہور میں نامعلوم دہشتگردوں نے اپنی گولیوں کا نشانہ بنا کر شہید کردیا۔