افہام و تفہیم کا راستہ

جب لوگوں نے ماضی کی تلخیوں سے صرف نظر کرتے ہوئے کھلے دل سے نئے حالات کو خوش آمدید کہا اور اپنے ہم عصروں کے ساتھ افہام و تفہیم کا معاملہ کیا


ایم جے گوہر January 16, 2026

حکومت اور اپوزیشن جمہوریت کی گاڑی کے دو ایسے پہیے ہیں جو ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ حکمراں جماعت اپنے منشورکے مطابق قومی زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق منصوبہ بندی کرتی ہے اور ان پر عمل درآمد کرکے ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کی راہیں متعین کرتی ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن کی جماعتیں ہوتی ہیں جو حکومت کی پالیسیوں،فیصلوں، اقدامات اور منصوبوں کے حوالے سے اپنے اپنے نکتہ نظر کے مطابق اسمبلیوں میں اپنی آرا کا اظہارکرتی ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے قومی مفادات کے ضمن میں کیے گئے حکومتی فیصلوں کی جہاں پذیرائی کی جاتی ہے، وہیں بعض حکومتی اقدامات کو اپوزیشن ارکان اسمبلی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں،کھل کر اپنے موقف کا اظہارکرتے ہیں،کبھی احتجاج اورکبھی اسمبلی کارروائی کا بائیکاٹ بھی کیا جاتا ہے۔

مہذب، باوقار اور باشعور جمہوری معاشرے میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان افہام و تفہیم سے امور سلطنت چلائے جاتے ہیں۔ حکومت اپوزیشن کی مثبت تجاویز اور آرا کا احترام کرتی ہے اور انھیں اپنے منصوبوں کا حصہ بناتی ہے یہی جمہوریت کا حسن ہے۔

پاکستان کے جمہوری معاشرے میں اپوزیشن اور حکومت کے مراسم کے حوالے سے یہ تلخ اور افسوس ناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ اول دن سے آج تک کسی بھی حکمراں جماعت یا اتحاد کے اپنی اپوزیشن کے ساتھ خوشگوار اور افہام و تفہیم والے اچھے تعلقات کا قیام تشنہ تعبیر چلا آ رہا ہے۔ ہماری قومی سیاسی زندگی کی یہ روایت رہی ہے کہ حکمرانوں نے اپنے اقتدارکی طاقت اور اختیارات کو ہمیشہ اپوزیشن کے خلاف استعمال کیا ہے۔

اسمبلی سے بہ زور طاقت ایسے قوانین اور آئینی ترامیم منظورکرائی گئیں جو اپوزیشن کو دیوار سے لگانے اور ان کے خلاف مقدمات کے قیام کا موجب بنیں۔ نتیجتاً حکومت اور اپوزیشن کے درمیان افہام و تفہیم کی فضا توکیا پروان چڑھتی الٹا مخاصمت، نفرت، انتقام،کشیدگی اور ٹکراؤ و تصادم کے راستے کھلتے چلے گئے۔ اپوزیشن نے حکومتی ہتھکنڈوں کے خلاف سڑکوں پر عوامی احتجاج کا راستہ اختیارکیا۔ دو طرفہ ٹکراؤ کے نتیجے میں جمہوریت کی ٹرین کو بریک لگے اور ملک مارشل لاؤں کی نذر ہوگیا۔

پھانسی، جلاوطنی، جیلیں اور قید و سزائیں سیاستدانوں کا مقدر بنتی گئیں، غیر جمہوری قوتیں غلبہ حاصل کر کے اپنا اثر و رسوخ بڑھانے میں قدم بہ قدم آگے بڑھتی رہیں اور خوش قسمتی سے ایوان عدل سے آنے والے تائید و حمایت کے ٹھنڈے جھونکوں نے ان کے شوق اقتدار و اختیار کو اور مہمیزکیا۔ سلسلہ دراز ہوتا گیا، غیر سیاسی قوتیں مضبوط سے مضبوط تر اور سیاسی جماعتیں کمزور سے کمزور تر ہو کر ان کی دست نگر بن کر رہ گئیں، نتیجتاً ملک میں آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوریت کا استحکام تشنہ تعبیر رہا۔ چوںکہ ہمارے ہاں ماضی کی غلطیوں، کوتاہیوں اور ناکامیوں سے سبق سیکھنے کی کوئی تابندہ روایت موجود نہیں ہے، لہٰذا ہر آنے والا حکمران اپنی طاقت و اختیارات کے زعم میں ماضی کی تاریخ کو قصہ پارینہ سمجھ کر بھلا دیتا ہے۔

جب کہ داناؤں کا قول صادق ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ جو حکمران اس قول کی صداقت اور حقیقت کو سمجھتے اور جانتے ہیں انھیں مکافات عمل کا بخوبی ادراک ہوتا ہے۔ تاریخ کے اوراق میں ایسی بہت سی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ جب لوگوں نے ماضی کی تلخیوں سے صرف نظر کرتے ہوئے کھلے دل سے نئے حالات کو خوش آمدید کہا اور اپنے ہم عصروں کے ساتھ افہام و تفہیم کا معاملہ کیا۔ نیلسن منڈیلا کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ ربع صدی جیل کاٹنے کے بعد بھی انتقام کا شائبہ بھی ان کے دل و دماغ میں نہ تھا۔ آج وہ آل ٹائم گریٹ لیڈر کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔

 5 جولائی 1977 کو ملک کی منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹا گیا۔ مقبول عوامی لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا دی گئی، بے نظیر بھٹو کو جلاوطنی اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں، بھٹو خاندان نے جمہوریت کے لیے اپنے خون کی قربانی دی، لیکن بے نظیر بھٹو نے افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرتے ہوئے جمہوریت کو بہترین انتقام قرار دیا۔

صدر آصف زرداری جو قومی سیاست میں مفاہمت کے بادشاہ ہیں انھوں نے بے نظیر بھٹو کی شہادت پر ’’ پاکستان کھپے‘‘ کا نعرہ لگا کر وطن عزیز کو ایک بڑے بحران سے بچا لیا۔ آج وہ ملک کے صدر ہیں اور اپنی سب سے بڑی سیاسی مخالف جماعت مسلم لیگ (ن) کے ساتھ شریک اقتدار ہیں جب کہ آج بھی اپوزیشن آزمائشوں کا سامنا کر رہی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان افہام و تفہیم کی فضا بنتی نظر نہیں آ رہی۔ مذاکرات کی بات دو قدم آگے چلتی ہے تو چار قدم پیچھے پیچھے چلی جاتی ہے۔ مودی و ٹرمپ کے عزائم کے پیش نظر پاکستان میں سیاسی استحکام ضروری ہے۔ لہٰذا فریقین کو افہام و تفہیم کا راستہ نکالنا ہوگا۔

مقبول خبریں