نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ "بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں"۔
علماء کرام کی زندگیاں انبیاء کی نورانی میراث کی تقسیم میں صرف ہوتی ہیں۔ علم و عرفان کے یہ جگمگاتے ستارے اندھیروں میں منزل تک پہنچانے کے وسیلے ہیں، علماء کی رحلت امت محمدی کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ اسی لیے موت العالِم کو موت العالَم کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی رحلت سے پیدا شدہ خلا مدتوں پر نہیں ہوتا۔ ان کی رحلت علم وعرفان اور رشد و ہدایت کے اس چشمے کے مترادف ہے جو ہزاروں چشمے جاری کر کے بند ہوجاتا ہے، مگر ان کے جاری کردہ چشمے بند ہونے والے سر چشمے کا نعم البدل نہیں بن سکتے۔
دسمبر 2025 میں رشد و ہدایت کے کئی سرچشمے یکے بعد دیگرے ہمیں داغ مفارقت دے گئے جن پر تفصیلی آرٹیکلز لکھ چکا ہوں۔ اب 2026 کے ابتدا میں جامعہ اشرفیہ لاہور کے بانی مہتمم حضرت مفتی محمد حسنؒ کے لخت جگر، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سرپرست، جامعہ اشرفیہ لاہور کے مہتمم، شفیق الامہ، آفتاب علم و عرفاں شیخ الحدیث حضرت مولانا فضل الرحیم اشرفی کے وصال کی خبر نے اور نڈھال کردیا۔
میرے لیے جنوری کا مہینہ ستمگر ثابت ہوا کیونکہ 12 جنوری 2019 کو میرے مرشد و مربی باباجان رحمہ اللہ کی رحلت سے میری دنیا اجڑ گئی تھی اور اب مولانا فضل الرحیم اشرفی صاحب جیسے حلیم الفطرت اور باوقار بزرگ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے جن اکابرین کی دعاؤں کے آسرے پر ہم جی رہے ہیں وہ بڑی تیزی سے داغ مفارقت دیتے جارہے ہیں۔ قحط رجال کے اس دور میں کِبار علماء کرام کی رحلت سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنا اور نقصان کی تلافی ممکن نہیں۔ آسمان علم و عمل کے وہ ستارے ہم سے بچھڑ گئے جو منبر و محراب کی زینت، مسند تدریس پر تشنگان علوم نبوت کو سیراب کرنے والے علم و عرفان کے بحر رواں تھے جنہوں نے احقاق حق اور ابطال باطل کا عظیم فریضہ انجام پایا۔
مولانا فضل الرحیم اشرفیؒ سے ملاقاتوں کا جو سلسلہ جامعہ اشرفیہ کے ترجمان مولانا مجیب الرحمن انقلابی اور روزنامہ ایکسپریس کے سابقہ اسسٹنٹ ایڈیٹر فورم شاہد ڈسکوی کی وساطت سے شروع ہوا تھا، سیکڑوں ملاقات پر محیط ہوچکا تھا۔ مگر چند ملاقاتوں کی سحر انگیزی نے ذہن و قلب کو اپنے حصار میں لیے رکھا ہے۔ ایک وہ ہے جب میرے مرشد و مربی باباجان ولی ابن ولی شیخ المفسرین و المحدثین حضرت مولانا حمد اللہ جان ڈاگئی باباجیؒ کے جامعہ اشرفیہ کے دوران ہوئی۔
جامعہ پہنچنے پر مولانا فضل الرحیم اشرفی اور دوسرے شیوخ نے پرتپاک استقبال کیا اور جامعہ اشرفیہ کا دورہ کرایا۔ ڈاگئی باباجیؒ کو جامعہ اشرفیہ میں دیکھ کر مولانا فضل الرحیم اشرفیؒ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا اور وہ ڈاگئی باباجیؒ سے ایسے محوگفتگو تھے جیسے صدیوں کی شناسائی ہو۔ اس ملاقات میں مولانا فضل الرحیم اشرفی نے بخاری شریف کی آخری حدیث زبانی سنا کر تمام شیوخ کے ساتھ باباجانؒ سے بالمشافہ اجازت حدیث لی۔ مولانا نے انھیں جامعہ اشرفیہ کی طرف سے اعزازی سند دی اور باباجانؒ کے دستخط جامعہ اشرفیہ کی سند پر ثبت کروائے جو انشاء اللہ تاقیامت اس سند پر رہیں گے۔ اس کے بعد تا دم مرگ مولانا کے ساتھ قلبی اور روحانی تعلق رہا جب بھی ملاقات ہوئی وہ فرماتے آپ کا مجھ فقیر اور جامعہ اشرفیہ پر احسان عظیم ہے کہ آپ حضرت کو جامعہ اشرفیہ لے کر آئے۔
میرے بیٹے محمد ابوبکر کی شادی کی تقریب میں باباجانؒ اور مولانا فضل الرحیم اشرفیؒ کی تفصیلی ملاقات ہوئی۔ اس تقریب میں مولانا عبدالحفیظ مکیؒ، مولانا عزیزالرحمن ہزارویؒ، محمد ابوبکر کے سسر مفتی اعظم ساوتھ افریقہ شیخ الحدیث رضا الحق صاحب ، مولانا زاہد الراشدی، مولانا حنیف جالندھری سمیت کئی اکابرین و شیوخ موجود تھے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے یہ دعوت ولیمہ نہیں کسی بڑے جامعہ کے ختم بخاری اور دستاربندی کی تقریب ہو۔ باباجانؒ سے مولانا کی تیسری اور یادگار ملاقات مفتی زہیر صاحب کے جامعہ الزہر لاہور کے ختم بخاری کی تقریب میں ہوئی وہ بے تکلف علمی نشست ہمارے لیے اثاثہ اور سرمایہ ہے۔
آج میرے محسن و مربی مولانا فضل الرحیم اشرفی ہم میں نہیں لیکن ان کی یادیں اور مشفقانہ باتیں ہمیشہ یاد اور ان کا دست شفقت سر پر محسوس ہوتا رہے گا انشاء اللہ۔ مولانا فضل الرحیم اشرفی کی پیدائش عظیم علمی و روحانی شخصیت حضرت مولانا مفتی حسنؒ کے ہاں امرتسر میں ہوئی، زمانہ شباب میں حضرت مفتی حسن صاحبؒ نے اپنے آبائی شہر کو علم کا مرکز بنایا اور تقسیم ہند کے وقت ہجرت کرکے لاہور میں جامعہ اشرفیہ کی بنیاد رکھی۔ مولانا فضل الرحیم نے کم عمری میں تکمیل حفظ قرآن کی سعادت کے اپنے والد گرامی کی سرپرستی میں جامعہ اشرفیہ سے اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کی۔ حدیث، تفسیر، فقہ و دیگر علوم نبوت کی تعلیم اپنے والد اورمولانا محمد ادریس کاندھلویؒ، مولانا جمیل احمد تھانویؒ، مولانا رسول خان ہزارویؒ، مولانا غلام مرتضیؒ، مولانا عبید اللہ قاسمیؒ، مولانا عبدالرحمٰن اشرفیؒ، مولانا یعقوب خانؒ، مولانا نور محمودؒ، مولانا صوفی محمد سرورؒ، دیگرجلیل القدر شیوخ سے حاصل کی۔
مولانا مشرف علی تھانوی، مفتی تقی عثمانی، مولانا محب النبی جیسے اکابر فنون کی کتب میں مولانا فضل الرحیم اشرفی کے ہم سبق رہے۔ جامعہ اشرفیہ سے درس نظامی کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں داخلہ لیا، وہاں میرے دادا جان مولانا عبد الحکیمؒ اور چچا دادا مولانا محمد صدیقؒ کے نامور شاگرد رشید، محقق دوراں حضرت مولانا شمس الحق افغانیؒ سے علوم قرآن اور علوم تفسیر پڑھی۔جامعہ اشرفیہ کا نام حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی نسبت سے رکھا گیا تھا مولانا فضل الرحیم اشرفی کو حضرت تھانویؒ کے متعدد خلفاء کی صحبت میسر ہوئی اسی لیے آپ بھی اپنے علمی و فکری سلسلے میں حضرت تھانویؒ کے مشن کے امین تھے۔ مولانا فضل الرحیم اشرفی جوانی سے تادم رحلت جامعہ اشرفیہ کے علمی اور انتظامی طور پر خادم رہے۔ مولانا عبدالرحمان اشرفی کے انتقال کے بعد اہتمام کی ذمے داری آپ کے کندھوں پر آن پڑی۔
مولانا فضل الرحیم اشرفی نے ناصرف انتظامی طور پر جامعہ کی خدمات انجام دیں بلکہ تدریسی عمل کو بھی کماحقہ پورا کیا، مولانا جامعہ کے مقبول ترین اساتذہ کرام میں شامل شمار ہوتے ہیں، جامعہ اشرفیہ میں امسال چھ سو کے قریب دورہ حدیث کے طالب علم ہیں جنھیں یہ اعزاز حاصل رہے گا کہ وہ مولانا فضل الرحیم اشرفی کے آخری شاگرد ہیں۔ میرے باباجانؒ کی طرح آخری دم اور سانس تک طلباء کو قرآن و حدیث پڑھاتے رہے، مولانا اصلاح امت کے لیے فکر مند رہتے تھے۔
وہ فرماتے تھے کہ اسلام وہ مکمل ضابطہ حیات ہے جو فرد، خاندان، معاشرے اور ریاست سب کی اصلاح چاہتا ہے۔ اسی لیے قرآن مجید نے امتِ مسلمہ کی پہچان ہی یہ بتائی ہے کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں۔ اللہ تعالیٰ سورہ آل عمران میں فرماتے ہیں "تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو۔" یہ آیت واضح کرتی ہے کہ امت کی برتری کا راز اخلاق وکردار کی اصلاح میں پوشیدہ ہے، نہ کہ محض تعداد اور طاقت میں۔ آپ کا اصلاحی تعلق اپنے والد محترم کے بعد مولانا مفتی خلیلؒ، مولانا ڈاکٹر عبدالحئی عارفی، ڈاکٹر حفیظ اللہ سکھرویؒ اور شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ مولانا صوفی محمد سرورؒ سے رہا۔ تصوف اور احسان سلوک کا جو سلسلہ جناب نبی کریم ﷺ سے چلا آرہا ہے، مولانا فضل الرحیم اشرفی کو ان تمام بزرگوں سے سلاسل اربعہ میں اجازت و خلافت ملی تھی۔
ذکر و اذکار اور تزکیہ نفس کی محافل کا انعقاد ان کا معمول تھا۔ مولانا نے تصنیف و تالیف میدان میں بھی لازوال خدمات انجام دیں، بہت سی کتابیں لکھیں جن میں کئی لاکھوں کی تعداد میں چھپ چکی ہیں۔ مولانا کے رحلت کے بعد ان کے بھتیجے مولانا اسد عبید کو جامعہ اشرفیہ کا مہتمم اور ان کے جانشین بیٹے مولانا زبیر حسن اشرفی کو نائب مہتمم کی ذمے داری سونپی گئیں، اللہ رب العزت ان کو اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق اور استقامت عطاء فرمائے،آمین۔ مولانا کے پسماندگان، جامعہ اشرفیہ کے شیوخ، اساتذہ کرام اور طلباء کرام کو دارالعلوم عربیہ مظہر العلوم کے شیوخ و اساتذہ، طلبا اور اپنے خاندان کے تمام افراد کی طرف سے تعزیت کے بعد دعاگو ہوں کہ اللہ حضرت کے درجات بلند فرمائے اور ان سب کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین