اسلام آباد:
وزیراعظم نے اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے شہریوں کے لیے مفت علاج کی سہولت فراہم کرنے والے وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کا باقاعدہ اجرا کردیا۔
وزیراعظم صحت کارڈ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ صحت کارڈ کا اجرا عوامی فلاح کے عزم کا تسلسل ہے اور حکومت عوام کو ان کی دہلیز پر صحت کی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحت زندگی کی سب سے قیمتی نعمت ہے، صحت ہوگی تو تعلیم، کھیل اور زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ممکن ہوگی، اشرافیہ تو بیرون ملک مہنگا علاج کرواسکتی ہے مگر عام آدمی، مزدور اور غریب طبقے کے لیے علاج ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے، اسی لیے یہ پروگرام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تھرڈ پارٹی کے ذریعے پروگرام میں شفافیت یقینی بنائی جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ سندھ میں صحت کارڈ پروگرام کے اجرا کی تجویز قابل غور ہے اور وزیراعلیٰ سندھ سے بات کر کے اس حوالے سے حل نکالا جائے گا تاکہ وہاں کے عوام کو بھی یہ سہولت میسر ہو، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور پنجاب میں صحت سے متعلق پروگرام کامیابی سے جاری ہیں اور اربوں روپے عوامی صحت پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان علاقوں میں 70 اسپتال وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام میں شامل ہیں اور حکومت صحت کی سہولیات ہر شہری تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔
وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد ارشد قائم خانی نے کہا کہ 2016 میں شروع ہونے والا صحت کارڈ پروگرام اب یونیورسل ہیلتھ کوریج کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ غربت سرویز کے مطابق 66 فیصد افراد صحت کے اخراجات برداشت نہ کر پانے کی وجہ سے خط غربت سے نیچے چلے جاتے ہیں، جبکہ صحت کارڈ پروگرام کے تحت 600 سے زائد سرکاری و نجی ہسپتالوں میں کیش لیس علاج کی سہولت دستیاب ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ شناختی کارڈ اور بچوں کے ب فارم کو صحت کارڈ کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا اور گلگت کے پہاڑوں سے لے کر گوادر کے ساحلوں تک ہر پاکستانی کو مفت علاج کی سہولت حاصل ہوگی۔
اس موقع پر وزیراعظم نے اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے وزیراعظم صحت کارڈز بھی تقسیم کیے۔