پاک روس تعلقات حقیقی معنوں میں باہمی طور پر مفید ہیں، پیوٹن

پاکستان خطے کی مضبوط ترین تنظیم شنگھائی کا رکن ہے، روس اپنا تعاون جاری رکھے گا، روسی صدر


ویب ڈیسک January 16, 2026
فوٹو انٹرنیٹ

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے پاکستان اور روس کے ہر دن سے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کی جانب سے نامزد کردہ سفیر فیصل ترابی نے روسی صدر کو اپنی اسناد پیش کیں، اس موقع پر پیوٹن نے دونوں ممالک کے تعلقات کے حوالے سے گفتگو کی جو سفارت خانے نے اعلامیے کی صورت میں جاری کردی۔

پیوٹن نے کہا کہ روس پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا، وہ شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن ہے اور یہ خطے کی سب سے بڑی علاقائی تنظیم ہے۔

پیوٹن نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک دوسرے کیلیے حقیقی معنوں میں مفید قرار دیا اور کہا کہ روس پاک تعلقات حقیقی معنوں میں باہمی طور پر مفید ہیں۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھ رہا ہے، یہاں مقیم پاکستانی برادری سےروابط کوترجیح دی جائے گی۔

قبل ازیں نو تعینات سفیروں کی اسنادِ سفارت پیش کرنے کی تقریب میں صدر پیوٹن نے تقریر کی جس میں اُن کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی تعاون انسانیت کی پائیدار ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے، آج کی متنوع اور باہم مربوط دنیا میں عالمی استحکام اور سلامتی کا براہِ راست انحصار ریاستوں کی اس صلاحیت پر ہے کہ وہ کس حد تک تعمیری انداز میں باہمی تعامل کر سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شفاف اور دیانت پر مبنی شراکت دارانہ تعلقات مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے درکار سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں، امن خود بخود قائم نہیں ہوتا، بلکہ اسے روزانہ کی بنیاد پر استوار کرنا پڑتا ہے اور یہ ایک نہایت محنت طلب عمل ہے، ہمیں امن کے حصول کے لیے مسلسل کوشش، ذمہ داری کا احساس اور شعوری فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔

پیوٹن نے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ بات مزید اہم ہو گئی ہے کیونکہ عالمی ماحول بتدریج خراب ہو رہا ہےن پرانے تنازعات شدت اختیار کر رہے ہیں جبکہ کشیدگی کے نئے اور سنگین محاذ بھی کھل رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یکطرفہ اور خطرناک اقدامات اکثر سفارت کاری، مفاہمت اور ایسے حل تلاش کرنے کی کوششوں کی جگہ لے رہے ہیں جو سب کے لیے قابلِ قبول ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ریاستوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے کے بجائے بعض عناصر "جس کی لاٹھی، اس کی بھینس" کے اصول پر چلتے ہوئے اپنا یکطرفہ بیانیہ مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسروں کو یہ بتاتے ہیں کہ انہیں کس طرح زندگی گزارنی چاہیے، اور احکامات صادر کرتے ہیں۔ 

پیوٹن نے کہا کہ دنیا بھر کے درجنوں ممالک اپنے خودمختار حقوق کی پامالی، افراتفری اور لاقانونیت کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ ان کے پاس اپنے دفاع کے لیے نہ مطلوبہ قوت ہے اور نہ ہی وسائل موجود ہیں۔

روسی صدر نے کہا کہ ایک معقول اور قابلِ عمل حل یہ ہے کہ عالمی برادری کے تمام اراکین بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں اور نئے عالمی رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک منصفانہ کثیر قطبی عالمی نظام کے قیام کی راہ ہموار کریں۔

انہوں نے کہا کہ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ روس کثیر قطبی دنیا کے نظریے سے مخلصانہ وابستگی رکھتا ہے اور ہمیشہ سے ایک متوازن اور تعمیری خارجہ پالیسی اختیار کرتا آیا ہے، جو قومی مفادات کے ساتھ ساتھ عالمی ترقی کے معروضی رجحانات کو بھی مدنظر رکھتی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ روس عالمی امور میں اقوامِ متحدہ کے کلیدی اور مرکزی کردار کو مزید مضبوط بنانے کی وکالت کرتا ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے جس نے گزشتہ برس اپنی سالگرہ منائی ہے۔

پیوٹن نے کہا کہ کسی ایک ملک کی قومی سلامتی کو دوسرے ملک کی قومی سلامتی کی قیمت پر یقینی نہیں بنایا جا سکتا، عالمی قومی سلامتی کو حقیقی معنوں میں جامع، مساوی اور باہم مربوط ہونا چاہیے، اور یہ اصول بین الاقوامی قانون کی بنیادی دستاویزات میں واضح طور پر درج ہے۔اس بنیادی اور اہم اصول کو نظرانداز کرنے سے نہ کبھی کوئی اچھا نتیجہ نکلا ہے اور نہ آئندہ نکلے گا۔

پیوٹن نے کہا کہ اس کی واضح مثال یوکرین کے بحران کی صورتِ حال ہے، جو برسوں تک روس کے جائز مفادات کو نظرانداز کرنے اور روس کی سلامتی کے لیے خطرات پیدا کرنے کی دانستہ پالیسی کے براہِ راست نتیجے کے طور پر سامنے آئی۔ اس میں نیٹو بلاک کی روسی سرحدوں کی جانب پیش قدمی بھی شامل ہے، جو روس سے کی گئی اعلانیہ یقین دہانیوں کے برخلاف تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ روس عالمی فلاح و بہبود اور ترقی کے فروغ کے لیے تمام شراکت داروں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعمیری تعلقات قائم کرنے کے لیے ہمیشہ تیار اور آمادہ ہے۔

مقبول خبریں