وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ یونیورسل ہیلتھ کوریج کے تحت گلگت بلتستان، اسلام آباد اور آزاد جموں و کشمیر کے شہری نجی اسپتالوں میں مفت علاج کروا سکتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی جیکب لائن صدر میں دوسرے ڈیجیٹلائزڈ ہیلتھ سینٹر کی افتتاحی تقریب میں کیا۔ وزیر صحت نے کہا کہ یہ ہمارے لیے خوشی کا موقع ہے اور ہم اللہ کا شکر ادا کر رہے ہیں کہ ہمیں ایک بار پھر یہ کام کرنے کی توفیق ملی۔
وفاقی وزیر صحت نے انسانیت کی خدمت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایک حدیث کا حوالہ دیا کہ بنی اسرائیل کے زمانے میں ایک عورت نے دیکھا کہ ایک کتا پیاسا ہے، اس نے اپنا موزہ اتار کر کتے کی پیاس بجھائی، جس پر اللہ نے اسے بہت ثواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ مخلوق سے محبت کرتا ہے اور تکلیف میں مبتلا فرد کی راحت دینے سے بہت ثواب ملتا ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ یہ کوئی عام سرکاری کام نہیں بلکہ وفاقی وزارت صحت اللہ کی مخلوق کی تکلیف کم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ہیلتھ کیئر نظام برباد ہونے کے قریب ہے اور کورونا وبا کے بعد ثابت ہوا کہ اگر ایک ساتھ اتنے لوگ بیمار ہوں تو طاقتور ممالک بھی متاثر ہوتے ہیں جن میں امریکا، برطانیہ اور چین بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بغیر پینڈیمک بھی بہت لوگ بیمار ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال 61 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں جن میں سے چار لاکھ بچوں کو حفاظتی ٹیکہ جات کی ایک بھی ڈوز نہیں ملی اور لاکھوں بچوں کو صرف سنگل ڈوز دی گئی۔
سید مصطفی کمال نے کہا کہ ہیلتھ کیئر صرف مریضوں کا علاج نہیں، بلکہ شہریوں کو امراض سے تحفظ فراہم کرنا ہے اور یہ کام صرف وزیر صحت کا نہیں، بلکہ یو سی کونسلر سے لے کر سب کی ذمہ داری ہے۔