لاہور:
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں پاکستان، عدلیہ اور فوج کیخلاف بولنے کی اجازت نہیں دوں گا۔
نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے) کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ نیشنل کالج آف آرٹس ایک بہترین یونیورسٹی ہے ۔ این سی اے نے قومی سطح پر شہرت حاصل کر لی ہے، جس کے طلبہ بہت کچھ حاصل کر رہے ہیں۔ یہاں کے نوجوان طلبہ ریسرچ کے بعد کام کرتے ہیں جو تخلیقی ہوتا ہے۔
سردار ایاز صادق نے کہا کہ وہ نہ حکومت میں ہیں اور نہ ہی اپوزیشن میں بلکہ بطور اسپیکر اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج ضرور کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ اس میں آگ نہ لگائی جائے اور جانوں کا ضیاع نہ ہو۔ توڑ پھوڑ، ڈنڈوں اور بندوقوں کی موجودگی تشویش کا باعث بنتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی پاکستان کے خلاف بات کرے گا تو اسے گفتگو کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں عدلیہ اور ججز کے کردار پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اسی طرح افواج پاکستان کے خلاف بات بھی نہیں کرنے دی جائے گی اور صرف اسی گفتگو کی اجازت ہو گی جو آئین کے دائرے میں ہو۔
سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ وہ وزیر اعظم پاکستان سے مشاورت کرتے ہیں اور وزیر اعظم انہیں کسی چیز سے نہیں روکتے۔ انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہیں، تاہم جو کوئی بھی پاکستان کے خلاف بات کرے گا اسے اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت مضبوط ہوتی جا رہی ہے ۔ زرمبادلہ کے ذخائر 40 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے امریکا، چین، روس، ترکی اور سعودی عرب کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر ملک میں مافیا ہوتے ہیں اور ان سے لڑنا عوام کا کام ہے۔