شاہ محمود قریشی کی بات سنی جائے تو تحریک انصاف سے مذاکرات ہوسکتے ہیں، معاون وزیراعظم

مذاکرات مخالف گروپ نے مزاحمت اور اسٹریٹ موومنٹ کا اعلان کر دیا، بیرسٹر گوہر برائے نام ہی چیئرمین ہیں، اختیار ولی


ویب ڈیسک January 17, 2026
فوٹو انٹرنیٹ / فائل

وزیراعظم کے معاون خصوصی اور ن لیگ کے رہنما اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ حکومت نے اگر مذاکرات کیے تو تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں شاہ محمود قریشی و دیگر کے ساتھ ہوں گے۔


ایکسپریس نیوز کے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے کوارڈینیٹر وزیر اعظم  اختیار ولی خان نے کہا کہ پی  ٹی آئی  کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی سمیت  دوسرے لوگوں کی  پارٹی میں بات سنی جائے گی تو  ہی مذاکرات شروع ہو جائیں گے، مذاکرات  اگر ہوئے تو  پی ٹی آئی سافٹ اور سینئر  رہنماوں کے ساتھ ہی ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات  کے مخالف گروپ نے مزاحمت اور اسٹریٹ  موومنٹ کا اعلان کر دیا جبکہ بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی کے  صرف برائے نام ہی چیئرمین ہیں۔

اختیار ولی نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی گروپس میں تقسیم ہو چکی ہے،مذاکرات کے معاملے پر  پی ٹی آئی پھنس چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اسٹریٹ  موومنٹ  دراصل  اسٹریٹ فوڈ مووومنٹ  ہے، پی ٹی آئی  والے مزاحمت کر کے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ مزاحمت سے بانی کی رہائی تو  نا ممکن باتوں میں سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی کسی بھی وقت محمود اچکزئی کو فارغ کر دیں گے۔

8  فروری کے احتجاج سے  متعلق  ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا  کہ  8 فروری کو کچھ نہیں ہو گا، کے پی  میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے وہاں ہی اس دن  کچھ ہو سکتا ہے، یہ کالجز  اور دیگر  ادارے اس دن بند کروا دیں گے، جس سے  وہاں کی عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو  گا۔

انہوں نے کہا کہ جس صوبے میں ان کی حکومت ہے وہاں  ہی یہ کچھ کر سکتے ہیں، ان کو  کرنے دیں جو کر رہے ہیں  یہ مزید ایکسپوز ہوں گے۔

اختیار ولی  خان نے پی ٹی آئی اور کے پی حکومت پر تنقید کرتے  ہوئے کہا کہ کے  پی میں  گورننس نام کی کوئی چیز نہیں، عوام کا پیسہ تحریک انصاف والے ریاست کیخلاف استعمال کرتے ہیں، ہم نے کہا کہ  آئیے احتجاج کر  کے دیکھ لیں، 126 دن کا دھرنا فنڈڈ تھا،اس  وقت  سب ملے ہوئے تھے، ہم نے 126 دن تک   خود کو برقرار  رکھا، اب تو ان تلوں  میں کوئی تیل نہیں۔

مقبول خبریں