بیرون ملک روزگار کیلیے جانے والے پاکستانیوں کی تعداد میں پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے اور سال 2025 میں مجموعی طور پر 7 لاکھ 62 ہزار اور 499 پاکستانی روزگار کیلیے بیرون ملک گئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزارتِ سمندر پار پاکستانی و ترقیِ انسانی وسائل کے نظام میں بہتری سے بیرون ملک پاکستانیوں کے روزگار اور تحفظ میں اضافہ ہوا۔
بیورو آف امیگریشن کی جانب سے بیرون ملک روزگار کے متلاشی افراد کی سہولت کاری کیلئے اقدامات کیے گئے ہیں۔
وزارت اوور سیز پاکستان کے مطابق گزشتہ سال بیرون ملک بجھوائے جانے والے پاکستانی کارکنوں کی تعداد میں 5 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ سال 2025 ء میں مجموعی طور پر 7 لاکھ 62 ہزار 499 افراد بیورو آف امیگریشن کی سہولت کاری سے بیرون ِملک ملازمت کیلیے گئے۔
اعلامیے کے مطابق سال 2025 ء میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کارکنوں کی ترسیلاتِ زر میں 9 فیصد اضافہ ہوا اور ترسیلات زر 40 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
وزارت سمندر پار پاکستانی کے مطابق سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے سال 2025 ء میں تقریباً 40 ارب ڈالر بجھوائے گئے، جس سے ملکی معیشت ، زرمبادلہ کے ذخائر کو فائدہ جبکہ اوورسیز پاکستانیوں کے بڑھتے کردار کی عکاسی ہوئی ہے۔
وزارت ِسمندر پار پاکستانی نے 2025ء کے دوران اٹلی، بیلاروس اور عراق کے ساتھ لیبر موبلٹی معاہدوں پر دستخط کیے جبکہ دوست ممالک کے ساتھ معاہدوں سے پاکستانی افرادی قوت کیلئے باعزت روزگار، ورکر ویلفیئر اور محفوظ امیگریشن کی راہ ہموار ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اٹلی کا پاکستان کے لیے تین سال کیلئے 10,500 کارکنوں کا کوٹہ مختص کرنا بڑی پیش رفت ہے، تقریباً 3,500 افراد سالانہ کا پہلا کوٹہ مبنی لیبر میکانزم ہے۔
وزارت کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ کوٹہ مہمان نوازی ، ہیلتھ کیئر، زراعت اور شپ بریکنگ جیسے شعبوں میں پاکستانیوں کیلئے مواقع فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ قطر کے 19 سال بعد پاکستانی کارکنوں کیلئے ورک ویزوں کا اجرا ہونے سے خلیجی ممالک تک رسائی مزید وسیع ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزارت نے نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ای-پروٹیکٹر سسٹم بھی متعارف کرایا ، جس کے نتیجے میں کارکردگی میں ناکامی پر 71 اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے لائسنس منسوخ کیے گئے۔
اس اقدام سے شفافیت بڑھی ، بیرون ملک جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کو استحصال سے تحفظ ملا جبکہ وزارت نے معیاری پری ڈیپارچر اورینٹیشن پروگرام بھی نافذ کیا۔
وزارت اوورسیز پاکستانیز کے مطابق کارکنان کو بیرون ِملک کام کے ماحول سے ہم آہنگ کرنے کیلئے پہلی بار لازمی ویب بیسڈ سافٹ اسکلز ٹریننگ ماڈیول متعارف کرایا جبکہ فلاحی اقدامات کے تحت شادی گرانٹ 4 لاکھ سے بڑھا کر 6 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ وزارت کی جانب سے وفات گرانٹ بھی 8 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دی گئی جبکہ وزارت نے 2025ء میں پہلا اوورسیز پاکستانی کنونشن منعقد کیا اور دوسرا کنونشن اپریل 2026 میں متوقع ہے۔
اعلامیے کے مطابق 14 اگست 2025 کو پہلی بار 16 بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے سول ایوارڈز کا اعلان بھی کیا گیا جبکہ بیرون ملک پاکستانیوں کے قانونی تحفظ کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام سے متعلق قوانین وفاق، پنجاب اور بلوچستان اسمبلیوں میں منظور کیے گئے۔
وزارت کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق سمندر پار پاکستانیوں کیلئے خصوصی عدالتوں کے قیام سے جائیدادی تنازعات کے حل میں تیزی آئے گی اس کے علاوہ اووسیز کارکنوں کیلیے حادثاتی موت اور معذوری انشورنس اسکیم بھی متعارف کرائی گئی ہے۔
اوورسیز پاکستانیوں کی حادثاتی موت کی صورت میں 20 لاکھ روپے کی انشورنس، جنازہ گرانٹ 50 ہزار اور لاش کی وطن واپسی کے اقدامات شامل ہیں، اس کے علاوہ انشورنس اسکیم کے تحت 20 لاکھ روپے تک کی کوریج، 50 ہزار روپے جنازہ گرانٹ اور لاش کی وطن واپسی کے اخراجات شامل کیے گئے۔
اعلامیے کے مطابق مہنگائی کے اثرات کے پیشِ نظر ریٹائرڈ ورکرز کیلئے ای او بی آئی کی کم از کم پینشن میں 15 فیصد اضافہ کے بعد 11 ہزار 500 کردی گئی، یہ اقدامات بیرون ملک باعزت روزگار کے فروغ، کارکنوں کے تحفظ اور قومی معیشت میں اوورسیز پاکستانیوں کے کردار کو مزید مضبوط بنانے کیلئے کیے گیے ہیں۔