کراچی:
ایم اے جناح روڈ پر قائم گل پلازہ میں ہفتے کی شب خوف ناک آتشزدگی کے نتیجے میں عمارت کا 40 فیصد حصہ زمین بوس ہونے کے بعد اتوار کی صبح جب سورج طلوع ہوا تو ہر جانب تباہی کے مناظر دیکھنے میں آئے، شہر کی مشہور و معروف عمارت گل پلازہ جو ہر طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی خریداری کا مرکز تھا جہاں شہریوں کو اپنی مرضی کا باآسانی سامان مل جاتا تھا وہ عمارت اب خوف ناک شعلوں کی نذر ہوچکی ہے۔
گل پلازہ کی تین منزلہ عمارت کا 40 فیصد حصہ زمین بوس ہوگیا جبکہ دیگر حصوں کو بھی مخدوش قرار دے دیا گیا، گل پلازہ میں لگنے والی خوف ناک آگ سے ہر جانب تباہی ہی تباہی کے مناظر ہیں، خوف ناک آگ نے نہ صرف دکانوں اور گوداموں کو جلا کر راکھ کر دیا بلکہ اس میں رکھا ہوا کروڑوں روپے مالیت کا سامان بھی جل کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا۔
اطلاعات کے مطابق دکانوں میں فروخت کی گئی اشیا کے عوض ملنے والی بھاری نقدی بھی موجود بتائی جاتی ہے جو اس خوفناک آگ میں دکانوں میں رکھے ہوئے سامان کے ساتھ جل کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئی۔
جس عمارت میں روزانہ کی بنیاد پر خریداروں کا ہجوم رہتا تھا وہاں اب ہر جانب تباہی ہی تباہی ہے، لوگوں کا ہجوم بھی ہے لیکن وہ خریدار نہیں بلکہ تباہی کی شدت کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں لیکن تاحال دکانوں میں جل کر خاکستر ہونے والے سامان سے دھواں بلند ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
گل پلازہ کے تباہ حال دکانوں کے مالکان بھی زندگی بھر محنت سے قائم کیے گئے کاروبار کو اپنی آنکھوں کے سامنے جلتے اور تباہ ہوتے ہوئے دیکھ کر شدت غم سے نڈھال ہیں جبکہ ریسکیو کا عملہ امدادی کاروائیوں میں مصروف عمل ہے۔
شاپنگ کے حوالے سے مشہور عمارت گل پلازہ جو چاروں جانب سے تباہی اور بربادی کا منظر پیش کر رہی ہے، وہیں اس میں کاروبار اور ملازمت کرنے والے سینکڑں افراد بھی اس تباہی کے نتیجے میں شدید مالی اور معاشی مسائل سے دوچار ہوگئے ہیں۔
گل پلازہ خریداری کا وہ مرکز تھا جہاں نہ صرف نومولودوں کے کپڑوں سے لے کر بڑوں کے کپڑے، جہیز کا سامان، سفر کے لیے سوٹ کیس، کراکری، سردی سے بچنے کے لیے گرم کمبل اور کمفرٹس، بچوں کے دل بہلانے کے لیے ان کی پسند کے کھلونے، گھروں کو سجانے اور خود سنورنے کے استعمال کی آرٹیفیشل جیولری، جوتے، میک اپ، پرفیوم اور دیگر مختلف اقسام کی اشیا فروخت کی جاتی تھی بلکہ سیکڑوں شہریوں کے گھر کی دال روٹی کا انتظام بھی یہاں سے ہوتا تھا لیکن اب وہاں سوائے تباہی اور بربادی کے کچھ نہ رہا۔
کراچی کے مشہور شاپنگ پلازہ کی عمارت کو مخدوش قرار دیا گیا ہے اور گل پلازہ کی رونقیں بحال ہونے میں معلوم نہیں کتنا عرصہ لگے لیکن دکان مالکان کے نقصانات اور اس سے بڑھ کر اس حادثے کے نتیجے میں ہونے والے قیمتی جانی نقصان کا ازالہ کون کرے گا۔