تہران:
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے خلاف کسی بھی حملے کو ایرانی قوم کے ساتھ ‘مکمل اعلان جنگ’ تصور کیا جائے گا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے عائد کی گئی غیر انسانی پابندیاں اور طویل دشمنی ایرانی عوام کو درپیش معاشی مشکلات کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے سپریم لیڈر کے خلاف کسی قسم کا حملہ پوری ایرانی قوم کے خلاف مکمل اعلان جنگ تصور کیا جائے گا۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے گزشتہ روز بیان میں کہا تھا کہ ایران حالیہ ہنگاموں کے دوران غیر ملکی عناصر سے منسلک افراد کی جانب سے کی جانے والی ہلاکتوں اور تباہی کا اصل ذمہ دار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سمجھتا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کو مجرم قرار دیا تھا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا اور ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اب ایران میں نئی قیادت تلاش کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
واضح رہے کہ ایران میں گزشتہ ماہ کے آخر میں تاجروں کی جانب سے شروع ہونے والا پرامن احتجاج ایک ہفتے جاری رہنے کے بعد پرتشدد ہو گیا تھا جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی جانب سے ایرانی مظاہرین کو اشتعال دلایا جا رہا تھا۔
ایران نے امریکا اور اسرائیل پر مظاہرین کی پشت پناہی الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ بیرونی خفیہ ایجنسیوں کی مدد سے فسادیوں نے ایرانی شہروں میں ہنگامہ آرائی کی، سکیورٹی فورسز اور شہریوں کو قتل کیا اور عوامی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔