ایران میں انٹرنیٹ بندش ختم ہونے والی ہے؟ حکومت کا اعلان سامنے آگیا

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کریک ڈاؤن کے بعد ملک میں احتجاجی سرگرمیوں میں کمی آئی ہے


ویب ڈیسک January 19, 2026

ایران میں حکام نے ملک بھر میں عائد انٹرنیٹ بندش کے بعد اسے بتدریج بحال کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کریک ڈاؤن کے بعد ملک میں احتجاجی سرگرمیوں میں کمی آئی ہے، جس کے بعد انٹرنیٹ کی مرحلہ وار بحالی پر غور کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں دسمبر کے آخر میں معاشی مشکلات کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے جلد ہی بڑے احتجاج میں تبدیل ہو گئے تھے، جنہیں حالیہ برسوں میں حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق ابتدائی مظاہرے پُرامن تھے، تاہم بعد میں یہ پرتشدد ہو گئے، جن کا الزام امریکا اور اسرائیل پر لگایا گیا۔

احتجاج کے دوران 8 جنوری کو ملک میں مکمل مواصلاتی بندش عائد کر دی گئی تھی۔ سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کے بعد مظاہروں میں کمی آئی اور حکام نے دعویٰ کیا کہ صورتحال اب قابو میں ہے۔ اسی تناظر میں اسکول بھی ایک ہفتے کی بندش کے بعد دوبارہ کھول دیے گئے ہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق متعلقہ حکام نے اعلان کیا ہے کہ انٹرنیٹ سروسز کو بتدریج بحال کیا جائے گا، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملکی انٹرانیٹ پر موجود مقامی میسجنگ ایپس جلد فعال کر دی جائیں گی۔

اتوار کی صبح تہران میں بعض مقامات پر محدود انٹرنیٹ بحال ہوا، تاہم بیشتر موبائل اور انٹرنیٹ سروسز بدستور بند ہیں۔ بین الاقوامی فون کالز چند روز قبل بحال ہو چکی ہیں جبکہ ٹیکسٹ میسجز کی سہولت بھی دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔

ادھر انسانی حقوق کی تنظیم ایران ہیومن رائٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ احتجاج کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔ ایرانی حکام نے بھی اب تک ہلاکتوں کی حتمی تعداد جاری نہیں کی۔

مقبول خبریں