کراچی:
ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں ذہنی دباؤ اور اس سے جڑی بیماریوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، پاکستانی سائیکوفزیالوجسٹ ڈاکٹر شمعون نوشاد اپنی تحقیق کے ذریعے فطرت، ذہنی صحت اور انسانی جسمانی نظام کے باہمی تعلق پر عالمی سطح پر توجہ حاصل کر رہے ہیں۔
ایڈوانسڈ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر (AEIRC) سے وابستہ ڈاکٹر شمعون نوشاد نے اپنی تحقیقی کاوشوں میں یہ واضح کیا ہے کہ قدرتی ماحول کے ساتھ منظم اور بامقصد تعلق انسان کے جذباتی ردِعمل کو متوازن بنانے اور نفسیاتی دباؤ کم کرنے میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ ان کی تحقیق کا محور وہ سائیکوفزیالوجیکل عوامل ہیں جن کے ذریعے فطرت انسانی اعصابی نظام پر اثر انداز ہوتی ہے۔
جدید سائنسی آلات جیسے ہارٹ ریٹ ویری ایبلٹی (HRV) بایوفیڈبیک اور ای ای جی پر مبنی جذباتی تجزیے کو استعمال کرتے ہوئے ڈاکٹر شمعون نوشاد نے یہ ثابت کیا کہ فطرت پر مبنی تھراپی سے گزرنے والے افراد میں ذہنی دباؤ پر قابو پانے کی صلاحیت، جذباتی استحکام اور ذہنی کارکردگی میں نمایاں بہتری آتی ہے۔
بین الاقوامی علمی فورمز پر اپنی تحقیق پیش کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ذہنی صحت کو صرف طبی زاویے سے نہیں بلکہ ماحولیاتی اور سماجی تناظر میں بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق فطرت پر مبنی تھراپی ایک پائیدار اور ادویات کے بغیر علاج کا طریقہ ہے، جو خاص طور پر ان معاشروں کے لیے اہم ہے جہاں مسلسل ذہنی دباؤ پایا جاتا ہے اور ذہنی صحت کی سہولیات محدود ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر شمعون نوشاد کا کام ذہنی صحت کے شعبے میں ایک عالمی رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جہاں علاج کے بجائے روک تھام اور ہمہ جہت حکمتِ عملیوں کو ترجیح دی جا رہی ہے اور فطرت کو محض پس منظر نہیں بلکہ ایک فعال علاجی ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں شہری دباؤ اور ماحولیاتی بگاڑ نفسیاتی صحت پر منفی اثرات ڈال رہے ہیں، ایسی تحقیق غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
فطرت پر مبنی تھراپی کو سائنسی پیمائش اور جسمانی شواہد کی بنیاد فراہم کرکے ڈاکٹر شمعون نوشاد نے اس طریقۂ علاج کو نہ صرف قابلِ اعتبار بنایا ہے بلکہ اسے ثقافتی طور پر موزوں اور عالمی معیار سے ہم آہنگ بھی ثابت کیا ہے۔ ان کی تحقیق ذہنی صحت کی پائیدار دیکھ بھال سے متعلق مباحث کو نئی سمت دے رہی ہے اور پاکستان کو ماحولیاتی فلاح اور انسانی قوتِ برداشت پر ہونے والی عالمی گفتگو میں نمایاں مقام دلا رہی ہے۔