مشہور اخبار نیویارک ٹائمز کے ایک کالم نگار نے پیشگوئی کی ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے آئی آئندہ 18 ماہ میں دیوالیہ ہو جائے گی۔
گزشتہ برس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 2025 میں کمپنی 8 بلین ڈالر تک خرچ کر دے گی اور یہ رقم 2028 تک بڑھ کر 40 بلین ڈالر تک ہوجائے گی۔ کمپنی نے اپنی پیشگوئی میں کہا تھا کہ 2030 تک وہ منافع بخش ہو جائے گی، لیکن ایسا ہونا مشکل دِکھائی دیتا ہے۔
سام آلٹمن کی کمپنی نے ڈیٹا سینٹرز پر 1.4 ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔
کونسل آن فارن ریلیشنز کے ماہر اقتصادیات سبسٹین مالابی نے اس متعلق کہا کہ اگر اوپن اے آئی اپنے مبالغے پر مبنی وعدوں پر نظر دوڑائے اور دوسروں کو اپنے زیادہ قیمت والے حصص سے پیسے دے تو بھی اس کے لیے مالیاتی خلا کو عبور کرنا ایک چیلنج ہوگا۔
سبسٹین مالابی اکیلے نہیں جو یہ سوچتے ہیں بلکہ بین اینڈ کمپنی کی گزشتہ سال کی رپورٹ میں بھی کہا گیا تھا کہ بہترین حالات میں بھی اس صنعت میں کم از کم 800 بلین ڈالر کا مالی بحران موجود ہے۔