وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ اٹھارہویں ترمیم ڈھکوسلا ثابت ہوا ہے۔
قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں آتشزدگی اور حادثات جیسے واقعات کی روک تھام اور 25کروڑ عوام کو با اختیار بنانے کے لئے لاہور،کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں بااختیار اور فعال مقامی حکومتوں کا نظام ناگزیر ہے، آمریت کے ادوار میں بھی مقامی حکومتیں چلتی رہیں، چین کے صدر بھی مقامی حکومتوں سے ہوتے ہوئے حکومت تک پہنچے ہیں۔
کراچی گل پلازہ آتشزدگی کے سانحہ پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ کراچی میں گل پلازہ آتشزدگی اور آئے روز ڈمپر حادثات میں انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں،کراچی اتنا بڑا شہر ہوگیا ہے کہ اس کا انتظام سنبھالناایک مشکل کام ہے۔ عوام کو بااختیار بنانے کے لئے مقامی حکومتوں کا نظام لانا پڑے گا۔
انہوں نے کہاکہ 28ویں ترمیم میں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کا موثر سسٹم تجویز کیا ہوا تھا، ایک اتفاق رائے تھا کہ مقامی حکومتوں کا نظام جو 18ویں ترمیم میں تجویز ہوا تھا اس پر عمل کریں، ہمیں وہ ترمیم بھی واپس لینا پڑی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم چاہتے تھے کہ گوادر سے گلگت اور پورے ملک میں نئی نسل پاکستانیت کے ساتھ ساتھ صوبائیت کو بھی پہنچانے، اس حوالہ سے نصاب ایک قومی شناخت دیتا ہے۔ ہمیں اس ترمیم کو بھی ہمیں ڈراپ کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے واقعات اس بات کے متقاضی ہیں کہ پورے ملک میں مقامی حکومتوں کا فعال نظام ہونا چاہیئے تا کہ اختیارات ضلع، تحصیل،یونین کونسل کی سطح تک منتقل ہوسکیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ جب تک گلی محلے میں نمائند گی نہیں ہوگی تو نہ فائر بریگیڈ ہو گا نہ کوئی مسئلہ حل ہوگا اور وزارت دفاع، نیوی، ایوی ایشن کا فائر بریگیڈ آکے آگ بجھائے گا ۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان میں ایوب خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف نے بھی بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام دیا اور باقاعدگی کے ساتھ الیکشن ہوتے رہے۔
وزیر دفاع نے کہا ہم لوگ الیکشن بھی نہیں کراتے بلکہ اگر شیڈول آجائے توصوبائی حکومتیں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے سامنے کھڑی ہوجاتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ چین کے صدر شی کو دیکھیں تو وہ مقامی حکومتوں سے آگے آئے، ترکیہ سمیت ترقی یافتہ ممالک میں مقامی حکومتوں کا فعال نظام موجود ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ آئین میں ترمیم کر کے یکساں نصاب اور فعال مقامی حکومتوں کا نظام لایا جائے۔