آٹھ فروری کی کال۔ ایک جائزہ

مجھے نہیں لگتا کہ کے پی بند ہونے سے کوئی دبائو آئے گا۔ بلکہ ایک دو دن بعد خود تحریک انصاف اور ان کی حکومت دبائو میں آجائے گی کی سڑکیں کھولی جائیں۔


مزمل سہروردی January 21, 2026

جیسے جیسے آٹھ فروری قریب آرہی ہے۔ سیاسی کھیل دلچسپ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک سوال سب پوچھ رہے ہیں کہ اس دن کیاہوگا؟ تحریک انصاف کبھی کہتی ہے کہ آٹھ فروری کی کال ہماری نہیں ہے۔ یہ کال تحریک تحفظ آئین نے دی ہے اور کبھی آٹھ فروری کے حوالے سے پروگرام بھی جاری کرتی ہے۔ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ اگر تحریک تحفظ آئین میں سے تحریک انصاف کو نکال دیا جائے تو باقی کچھ نہیں بچتا۔ لہذا آٹھ فروری کو کیا ہوگا، یہ تحریک انصاف کے پروگرام سے ہی پتہ چلے گا۔

جہاں تک مذاکرات کی بات ہے تو محمود خان اچکزائی نے قائد حزب اختلاف بننے کے بعد مذاکرات کے لیے جو شرائط سامنے رکھی ہیں، ان سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انھوں نے پہلی شرط ہی حکومت کے مستعفیٰ ہونے اور ایک قومی حکومت کے قیام کی رکھی ہے۔ آپ بتائیں کونسی حکومت اپنے استعفیٰ پر بات کرنے کے لیے تیار ہوگی۔ ویسے بھی جب حکومت نے استعفیٰ ہی دے دیا تو مذاکرات کرنے کی بات ہی فضول ہے ۔

اس لیے مجھے لگتا ہے کہ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔دونوں فریق بند گلی میں ہیں جہاں سے دونوں کے پاس مذاکرات کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اس لیے فی الحال اپوزیشن مزاحمت کرنے کے موڈ میں ہے، ورنہ اگر مذاکرات میں سنجیدگی ہوتی تو یہ کہا جا سکتا تھا کہ غیر مشروط مذاکرات کیے جائیں گے۔ پہلے اکٹھے بیٹھا جائے گا اور مسائل کا حل تلاش کیا جائے گا۔ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ تحریک انصاف اور تحریک تحفظ آئین اس وقت ایسی پوزیشن میں ہیں کہ مذاکرات کر سکیں۔ حکومت سمجھتی ہے کہ وہ بہت مضبوط ہو چکی ہے اور اب اپوزیشن کا اس پر کوئی دباؤ نہیں۔

اسی لیے آٹھ فروری کی کال بہت اہم ہے۔ ابھی تک جو پروگرام سامنے آیا ہے، اس میں پہیہ جام ہڑتال اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال ہے۔ ویسے تو میری رائے یہی ہے کہ پنجاب میں نہ تو پہیہ جام ہڑتال کال ہوگی اور نہ ہی شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی۔پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن صرف کے پی کی حد تک ممکن ہے۔ پورے پاکستان میں ممکن نہیں ہے۔ اس لیے ایسا لگ رہا ہے کہ آٹھ فروری کو حکومت کہے گی کہ کال ناکام ہو گئی ہے، حکومت جیت گئی ہے اور تحریک تحفظ آئین کے پی میں کامیابی پر جشن منائے گی۔ ویسے تو آٹھ فروری کو اتوار ہے۔ کئی مارکیٹیں اور دکانیں ویسے ہی بند ہوتی ہیں۔ اس لیے ان کے روٹین میں بند ہونے کو بھی اپوزیشن اپنی جیت میں شامل کر سکے گی۔ اتوار کو ٹریفک بھی کم ہوتی ہے۔ لیکن پوری بند نہیں ہوتی۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا پورا کے پی بند کیا جائے گا؟ اس سے مراد یہی ہے کہ کیا کے پی کو آنے اور جانے والے راستے بند کر دیے جائیں گے؟ کیونکہ اس سے پہلے تحریک انصاف کی جانب سے ایسے اشارے ملے ہیں کہ کے پی کی تمام سڑکیں بند کر دی جائیں گی۔ یہ کوئی نا ممکن بات نہیں ہے۔ اگر پولیس نہ روکے تو چند لوگ بھی سڑکیں بند کر سکتے ہیں۔ وہ سڑکوں پر دھرنا دے سکتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کے پی کو بند کرنے سے تحریک انصاف کو فائد ہوگا یا نقصان؟ کیا وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کے پی بند ہونے سے دباؤ میں آئیں گی اور بانی تحریک انصاف کو رہا کرنے پر مان جائیں گے اور کم از کم رہا کرنے پر اگر نہیں مانتے تو ملاقات ہی کروادیں۔

مجھے نہیں لگتا کہ کے پی بند ہونے سے کوئی دباؤ آئے گا۔ بلکہ ایک دو دن بعد خود تحریک انصاف اور ان کی حکومت دباؤ میں آجائے گی کی سڑکیں کھولی جائیں۔ آمد و رفت بند ہو نے سے کے پی حکومت خود مشکل میں پھنس سکتی ہے۔ لوگ تنگ ہوںگے۔ کے پی کی معیشت کافی خراب ہے۔ ایسے میں حکومت خود سڑکیں بند کر دے تو اس پر تنقید شروع ہوجائے گی۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ علامتی طو رپر تو سڑکیں بند کی جا سکتی ہیں۔ لیکن مکمل بندکرنا اور لمبے عرصہ تک بند کرنا ممکن نہیں۔ پھر وہاں سیکیورٹی فورسز بھی موجود ہیں۔ وہ اپنی ضرورت کے تحت خود بھی سڑکیں کھلو اسکتی ہیں۔ اس لیے یہ کوئی قابل عمل پلان نہیں ہے۔ شائد اسی لیے ابھی تک اس کے بارے میں بات تو بہت کی گئی ہے۔ لیکن اس کا کوئی باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا۔ لیکن کیا یہی سرپرائز پلان ہے؟ بظاہر مشکل لگتا ہے۔

پھر آٹھ فروری کو کیا ہوگا؟ ڈی پی او اٹک کے دفتر میں ایک مشق ہوئی ہے۔ جس میں اس بات کی تیاری کی گئی ہے کہ اگر آٹھ فروری کو کے پی سے کوئی بڑی ریلی اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کے لیے آتی ہے تو اس کوکیسے روکا جائے گا۔اس بات کو بھولنا نہیں چاہیے کہ کراچی کے جلسے میں سہیل آفریدی یہ کہہ چکے ہیں کہ انھیں اسلام آباد کی طرف کال کے لیے بانی تحریک انصاف کے اشارے کا انتظار ہے۔ ابھی تو یہ بہانہ ہے کہ ملاقات نہیں ہو رہی، اس لیے اشارہ نہیں مل رہا۔ لیکن ایسی بات بھی نہیں۔ ملاقات نہ بھی ہو اسلام آباد کی کال دی جا سکتی ہے۔

سوال یہی ہے کہ کیا آٹھ فروری کو کیا ڈی چوک جانے کی کال دی جائے گی؟ تحریک انصا ف کے اندر بھی یہ سوچ موجود ہے کہ جب تک ڈی چوک کی کال نہیں دی جائے گی کچھ نہیں ہوگا۔ لیکن ڈی چوک کی کال کی بہت بڑی قیمت بھی ہے، سیاسی قیمت بھی ہے اور دوسری قیمت بھی ہے۔ شائد تحریک انصاف کو انداذہ ہوگیا ہے کہ وہ ڈی چوک جا کرحکومت کو گھر بھیجنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اگر ماضی کی ڈی چوک کی کال کا جائزہ لیاجائے تو تحریک انصاف کا زیادہ نقصان ہوا ہے۔ کیا پارٹی ڈی چوک کی ایک اور کال دینے کی پوزیشن میں ہے۔ مجھے نہیں لگتا۔ لوگ منگل کو اڈیالہ آنے کے لیے تیار نہیں ہیں، ڈی چوک کی کال کے لیے کیسے آئیں گے۔

بہر حال آٹھ فروری کو کیا کیا جائے۔ تحریک انصاف اور تحریک تحفظ آئین کے لیے بھی ایک بڑا سوال ہے اگر کال ناکام ہوگئی تو بہت سیاسی نقصان ہوگا، حکومت مزید مضبوط ہوگی۔ اور بانی تحریک انصاف بھی سیاسی طو رپر کمزور ہوںگے۔ سہیل آفریدی مشکل میں ہیں۔ وہ اسٹریٹ موومنٹ کو لمبا لے کر نہیں چل سکتے۔ لوگ نتیجہ مانگتے ہیں۔ لوگ پوچھیں گے کہ کب تک یہ اسٹریٹ موومنٹ چلے گی۔ لوگ باہر بے شک نہ آئیں لیکن سوال تو پوچھیں گے۔ بالخصوص سوشل میڈیا جو تحریک انصاف نے بنایا تو سیاسی مخالفین کے لیے تھا لیکن اب خود کو بھی کھا رہا ہے۔ یہ بڑا مسئلہ ہے۔ تحریک انصاف اب خود اپنے ہی سوشل میڈیا سے تنگ ہے۔ یہ وہ جن ہے جو اب انھیں کھا رہا ہے۔  

مقبول خبریں