آپ کی نظروں سے خبریں تو گزرتی ہی ہوں گی۔ سڑکوں پر احتجاج، نعرے بازی، اور سرکاری عمارتوں بلکہ مساجد تک کو آگ لگانے کی ویڈیوز۔ ان خبروں کو دیکھ کر دو طرح کے تبصرے عام ملتے ہیں۔ ایک طرف سوشل میڈیا پر انہیں غدار، مغربی ایجنٹ اور اسلام کا دشمن کہا جاتا ہے، تو دوسری طرف یہ تاثر ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو مہنگائی اور پٹرول کی قیمتوں سے تنگ آ کر باہر نکلے ہیں۔
لیکن سچ یہ ہے کہ ایران کی کہانی اتنی سادہ نہیں، یہ بہت پیچیدہ ہے۔ اگر آپ اس صورتحال کو گہرائی سے سمجھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں خبروں کی سرخیوں سے نکل کر ایران کی تاریخ اور اس کی شناخت کے بحران کو دیکھنا ہوگا۔
ایران کوئی ایسا ملک نہیں جسے بیسویں صدی میں نقشے پر لکیریں کھینچ کر بنایا گیا ہو۔ یہ ہزاروں سال پرانی تہذیب ہے۔ وہ سرزمین جسے کبھی ’پرشیا‘ کہا جاتا تھا۔ جب یورپ قبیلوں میں بٹا ہوا تھا، تب ایران میں ایک مکمل ریاستی نظام، ٹیکس سسٹم اور بیوروکریسی موجود تھی۔
ایرانی ذہن میں ’ریاست‘ کا تصور بہت واضح اور قدیم ہے۔ اسلام سے پہلے وہاں زرتشت مذہب رائج تھا، جو محض ایک عقیدہ نہیں بلکہ ایک ریاستی فلسفہ تھا۔ ’’اچھی سوچ، اچھے الفاظ اور اچھے اعمال‘‘۔ وہاں مذہب کا مقصد صرف عبادت نہیں بلکہ معاشرے میں نظم و ضبط پیدا کرنا تھا۔ اسی لیے ایرانی شناخت میں ’ریاست‘ ایک مقدس ادارہ رہی ہے۔
ساتویں صدی میں جب عرب لشکر ایران پہنچے، تو ایران سیاسی طور پر تو ہار گیا، لیکن ثقافتی طور پر نہیں۔ یہ دنیا کے ان چند خطوں میں سے ہے جہاں اسلام تو آیا مگر عربی زبان رائج نہ ہو سکی۔ فارسی نہ صرف زندہ رہی بلکہ اس نے عربی کے اثرات کو جذب کرکے خود کو مزید طاقتور بنا لیا۔ ایرانیوں نے دین تو قبول کیا، مگر اپنی ایرانی شناخت نہیں چھوڑی۔ فردوسی کا ’شاہنامہ‘ محض شاعری نہیں، ایک سیاسی اعلان تھا کہ ’’ہم تھے، ہم ہیں اور ہم رہیں گے۔‘‘
یہیں سے ایک اور سوال جنم لیتا ہے، ایران نے سنی مکتبہ فکر کے بجائے شیعہ اسلام کو کیوں اپنایا؟
اس کی وجہ یہ تھی کہ شیعہ روایات، یعنی ظلم کے خلاف مزاحمت، مظلومیت، شہادت اور اقتدار کے آگے نہ جھکنا، ایرانیوں کے تاریخی تجربے اور ان کی شناخت سے میل کھاتی تھیں۔ ایران میں کربلا صرف ایک مذہبی واقعہ نہیں، بلکہ ایک سیاسی استعارہ بن گیا۔
1979 کا انقلاب بھی محض مہنگائی یا کرپشن کے خلاف نہیں تھا۔ وہ ایک ’شناختی انقلاب‘ تھا۔ شاہِ ایران پر الزام تھا کہ وہ مغرب کا ایجنٹ بن کر ایرانی شناخت کا سودا کررہا ہے۔ جب اخبار میں خمینی کو ’غیر ایرانی‘ لکھا گیا، تو عوام بھڑک اٹھے۔ ان کےلیے مسئلہ مذہب سے زیادہ یہ تھا کہ ایران کی نمائندگی کون کر رہا ہے؟ ایک ’اصیل ایرانی‘ یا ایک ’مغربی مہرہ‘؟
خمینی کی طاقت ان کی فقہ سے زیادہ ان کی سادگی اور ان کی ایرانیت میں تھی۔ لوگوں نے انہیں اپنی شناخت کا محافظ سمجھا اور شاہ کو باہر نکال دیا۔ لیکن انقلاب کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو ایک منظم مذہبی گروہ نے پُر کیا اور یہاں سے ’ولایتِ فقیہ‘ کا آغاز ہوا۔
اب یہ سمجھتے ہیں کہ آج کا بحران کیا ہے؟
آج کا ایرانی نوجوان پوچھتا ہے ’’ہم کون ہیں؟ کیا ہماری ریاست ہماری نمائندگی کرتی ہے؟‘‘ ریاست کہتی ہے ’’تم پہلے مسلمان ہو، پھر ایرانی۔‘‘ نوجوان کہتا ہے ’’میں پہلے ایرانی ہوں، پھر مسلمان۔‘‘
ایران میں اجنبیوں کا خوف دکھا کر اختلافِ رائے کو غداری قرار دے دیا گیا۔ ملک میں ایک ’دہری ریاست‘ قائم ہوگئی۔ ایک منتخب صدر اور پارلیمنٹ، اور دوسری طرف ایک غیر منتخب ’سپریم لیڈر‘ اور ’گارڈین کونسل‘ جو یہ طے کرتی ہے کہ الیکشن کون لڑ سکتا ہے اور کون نہیں۔ یہ ایک ’فلٹرڈ جمہوریت‘ ہے۔
پھر پاسدارانِ انقلاب جو صرف فوج نہیں رہی، بلکہ میڈیا، تیل، تعمیرات اور تجارت کا ایک بڑا معاشی کمپلیکس بن چکی ہے۔ ادارہ جو انقلاب کی حفاظت کے لیے بنا تھا، اب خود انقلاب اس کے وجود کا بہانہ بن گیا ہے۔
آج سڑکوں پر نعرے بدل رہے ہیں۔ اب بات صرف اصلاحات یا مہنگائی کی نہیں رہی، اب نعرہ ہے ’’ہمیں یہ نظام ہی نہیں چاہیے۔‘‘ یہ تبدیلی موجودہ حکومت کے لیے بہت خطرناک ہے۔ لیکن ایک بڑا مسئلہ قیادت کا فقدان بھی ہے۔ مذہبی نظام نے ہر متبادل قیادت کو جیل یا جلاوطنی میں بھیج دیا ہے۔ رضا پہلوی جیسے نام سوشل میڈیا پر تو نظر آتے ہیں، مگر ان کے پاس ایران کے اندر وہ منظم نیٹ ورک نہیں جو کبھی خمینی کے پاس مساجد کی شکل میں تھا۔
ایران کا یہ بحران اتنی آسانی سے حل ہوتا نظر نہیں آتا۔ یہ احتجاج دب بھی جائے تو پھر ابھرے گا، کیونکہ مسئلہ ایشو بیسڈ نہیں، اسٹرکچر بیسڈ ہے۔ یہ وقار، شناخت اور انتخاب کا مسئلہ ہے۔
ایران کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ قوم اپنی جڑوں سے کبھی کٹتی نہیں ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والا وقت اس عظیم تہذیب کو کس موڑ پر لے جاتا ہے۔