امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جوہری پروگرام کے حصول سے متعلق ایک بار پھر سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو اپنی جوہری سرگرمیاں فوری طور پر بند کرنا ہوں گی، بصورت دیگر امریکا کارروائی کرنے پر مجبور ہوگا۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے دوبارہ جوہری پروگرام بحال کیا تو اس کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں امریکا کی کارروائی نے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روک دیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق اگر امریکا نے ایران کے ایٹمی تنصیبات کو نشانہ نہ بنایا ہوتا تو ایران دو ماہ کے اندر جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش ترک کر دینی چاہیے۔
انٹرویو کے دوران امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ ایران کے خلاف مزید کسی فوجی کارروائی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران میں سڑکوں پر اندھا دھند لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا، لیکن ان کی جانب سے فوجی کارروائی کی دھمکی کے بعد ایرانی حکام نے سینکڑوں افراد کو پھانسی دینے کا ارادہ ترک کر دیا۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نےفلسطینی تنظیم حماس کو بھی سخت واننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ حماس نے چند دنوں میں ہتھیار نہ ڈالے تو اُسے نیست و نابود کرکے رکھدیں گے۔