لاہور:
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پاکستان کی تاریخ کے پہلی گرین پولیسنگ یونٹ کا افتتاح کر دیا، جس کے تحت پیٹرولنگ کے لیے پہلی مرتبہ الیکٹرک گاڑی متعارف کرائی گئی ہے اور یہ اعزاز پنجاب کو حاصل ہوا ہے۔
افتتاح کے موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے گرین پولیسنگ یونٹ کی الیکٹرک پیٹرولنگ گاڑی کا معائنہ کیا اور خود الیکٹرک وہیکل ڈرائیو بھی کی۔ اس موقع پر مریم نواز کو گرین پولیسنگ یونٹ اور الیکٹرک وہیکل کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ لاہور میں جدید ترین بی وائی ڈی الیکٹرک گاڑی کے ذریعے ٹریفک اور پیٹرولنگ کے فرائض انجام دیے جائیں گے۔ یہ ماحول دوست الیکٹرک گاڑی فی چارج 410 کلومیٹر تک کی رینج رکھتی ہے۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ الیکٹرک گاڑی 30 سے 80 فیصد تک تقریباً 30 منٹ میں تیزی سے چارج ہو جاتی ہے جب کہ الیکٹرک وہیکل میں سرویلنس کے لیے جدید پی اے سسٹم، پولیس لائٹس، 360 ڈگری کیمرہ اور اسپیڈ ڈیٹیکشن آلات نصب ہیں۔ پیٹرولنگ پر مامور 103 گاڑیاں ماہانہ 28 ہزار لیٹر ایندھن استعمال کرتی ہیں جس پر 7.42 ملین روپے خرچ ہوتے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کو بتایا گیا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے سالانہ فی گاڑی تقریباً 4 ہزار 500 لیٹر ایندھن کی بچت ممکن ہوگی، آپریشنل لاگت میں نمایاں کمی آئے گی اور زیرو کاربن اخراج کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے گرین پولیسنگ یونٹ کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد بتدریج بڑھانے کی ہدایت کی اور گرین پولیسنگ یونٹ کو مرحلہ وار دیگر اضلاع میں شروع کرنے کے لیے اقدامات کا حکم دیا۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال ایندھن کے اخراجات میں کمی اور زیرو کاربن اخراج کا باعث بنے گا جب کہ گرین پولیسنگ صاف ستھری فضا اور گڈ گورننس کے وژن کا عکاس ہے۔