پنجاب بلدیاتی انتخاب کیس: قانون پر عدم عملدرآمد پرحکومت کو نااہلی کی سزا ہوسکتی ہے،حکام الیکشن کمیشن

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کے معاملے کی سماعت  چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن  کر رہا ہے


ویب ڈیسک January 22, 2026

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کے معاملے کی سماعت کے دوران حکام الیکشن کمیشن  نے کہا ہے کہ آئین اور قانون پر عمل درآمد نہ ہونے پر سنگین نتائج ہو سکتے ہیں جو نااہلی کی سزا ہوسکتی ہے۔

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کے معاملے کی سماعت جاری ہے، چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن  سماعت  کر رہا ہے، چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔

حکام الیکشن کمیشن  نے کہا کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ اکتوبر 2025 میں منظور ہوا تھا،
قانون میں تبدیلی کے بعد پنجاب حکومت کو مختلف نوٹیفکیشنز اور تیاریوں کیلئے ٹائم لائنز دی گئی تھیں، پنجاب حکومت نے ٹائم لائن پر عمل درآمد نہیں کیا۔

حکام الیکشن کمیشن نے کہا کہ پنجاب حکومت نے ڈی لمیٹیشن اور کنڈکٹ آف الیکشن رولز فراہم نہیں کیے، پنجاب بلدیاتی انتخابات پہلے ہی تاخیر کا شکار ہیں، مزید تاخیر کی جا رہی ہے،
الیکشن کمیشن کے پاس آرٹیکل (3) 218 کے تحت وسیع اختیارات ہیں۔

حکام الیکشن کمیشن کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے بھجوائے گئے ڈرافٹ رولز میں خامیاں ہیں، وفاقی اور صوبائی قوانین میں تضاد کی صورت میں وفاقی قانون کو ترجیح دی جاتی ہے، الیکشن ایکٹ کا چیپٹر 13 اختیار دیتا ہے کہ ہم اپنے قواعد کے تحت انتخابات کروائیں، صوبائی حکومت قواعد فراہم نہ بھی کرے تو ہم اپنے قواعد کے تحت انتخابات کروا سکتے ہیں۔

حکام نے کہا کہ صوبائی حکومت حد بندیوں کے قواعد نہ بنائے تو الیکشن کمیشن پھر بھی حد بندیاں کر سکتا ہے، پنجاب میں تین مرتبہ بلدیاتی انتخابات کیلئے حد بندیاں کی گئیں، تمام صوبوں میں بلدیاتی انتخابات ہو چکے صرف پنجاب اور اسلام آباد میں رہتے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر نے  استفسار کیا کہ پنجاب اور اسلام آباد میں کیا چیز مشترک ہے، ممبر پنجاب نے کہا کہ پنجاب اور اسلام آباد میں ایک ہی جماعت کی حکومت ہے۔

حکام الیکشن کمیشن  نے کہا کہ آئین اور قانون پر عمل درآمد نہ ہونے پر سنگین نتائج ہو سکتے ہیں،
کیا سنگین نتائج ہو سکتے ہیں، نا اہلی کی سزا ہو سکتی ہے، پنجاب حکومت کی جانب سے بھجوائے گئے ڈرافٹ رولز میں خامیاں ہیں، وفاقی اور صوبائی قوانین میں تضاد کی صورت میں وفاقی قانون کو ترجیح دی جاتی ہے، الیکشن ایکٹ کا چیپٹر 13 اختیار دیتا ہے کہ ہم اپنے قواعد کے تحت انتخابات کروائیں۔

حکام الیکشن کمیشن  نے کہا کہ صوبائی حکومت قواعد فراہم نہ بھی کرے تو ہم اپنے قواعد کے تحت انتخابات کروا سکتے ہیں، صوبائی حکومت حد بندیوں کے قواعد نہ بنائے تو الیکشن کمیشن پھر بھی حد بندیاں کر سکتا ہے،  پنجاب میں تین مرتبہ بلدیاتی انتخابات کیلئے حد بندیاں کی گئیں۔

حکام الیکشن کمیشن نے کہا کہ تمام صوبوں میں بلدیاتی انتخابات ہو چکے صرف پنجاب اور اسلام آباد میں رہتے ہیں، چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ پنجاب اور اسلام آباد میں کیا چیز مشترک ہے۔

ممبر پنجاب نے کہا کہ پنجاب اور اسلام آباد میں ایک ہی جماعت کی حکومت ہے، حکام الیکشن کمیشن  نے کہا کہ آئین اور قانون پر عمل درآمد نہ ہونے پر سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا سنگین نتائج ہو سکتے ہیں، حکام الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ نا اہلی کی سزا ہو سکتی ہے۔

مقبول خبریں