شیخ حسینہ کے بعد پہلا الیکشن، بنگلا دیش میں عام انتخابات کے لیے باضابطہ انتخابی مہم کا آغاز

بی این پی کے مرکزی رہنما طارق رحمان کی قیادت میں شمالی شہر سلہٹ میں ایک بڑے انتخابی جلسے کا انعقاد کیا گیا


ویب ڈیسک January 22, 2026

بنگلا دیش میں آئندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات کے لیے باضابطہ انتخابی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

یہ انتخابات 2024 کی عوامی بغاوت کے بعد ہونے والے پہلے انتخابات ہیں، جس کے نتیجے میں سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی طویل اور آمرانہ حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔

بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے مرکزی رہنما اور وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار طارق رحمان کی قیادت میں شمالی شہر سلہٹ میں ایک بڑے انتخابی جلسے کا انعقاد کیا گیا، جس میں ہزاروں کارکنوں اور حامیوں نے شرکت کی۔ مظاہرین پارٹی جھنڈے اٹھائے طارق رحمان کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔

طارق رحمان گزشتہ ماہ 17 سالہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئے تھے۔ وہ سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیاء کے صاحبزادے ہیں، جو دسمبر میں 80 سال کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔

دوسری جانب جماعتِ اسلامی نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ آج ڈھاکا میں اپنی انتخابی مہم کا آغاز کرے گی۔ جماعت کئی برسوں بعد عملی سیاست میں واپسی کی کوشش کر رہی ہے، کیونکہ شیخ حسینہ کے فرار کے بعد جماعت کے کئی رہنماؤں کو جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔

بنگلا دیش میں 12 فروری کو عام انتخابات ہوں گے، جن میں 350 ارکانِ پارلیمنٹ کا انتخاب کیا جائے گا۔ یورپی یونین کے مبصرین کے مطابق یہ عمل 2026 کا سب سے بڑا جمہوری عمل ہو سکتا ہے۔

انتخابات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ملک میں سیاسی بے یقینی، سکیورٹی خدشات اور سوشل میڈیا پر جعلی خبروں کے پھیلاؤ پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کے خلاف مظاہروں کے دوران ایک طالب علم رہنما کے قتل نے حالات کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

نگراں حکومت کے سربراہ اور نوبیل انعام یافتہ محمد یونس نے کہا ہے کہ وہ ایک “تباہ شدہ سیاسی نظام” ورثے میں لے کر آئے تھے۔ انہوں نے سیاسی اصلاحات کے لیے ایک ریفرنڈم کی تجویز دی ہے، جو انتخابات کے روز ہی کرایا جائے گا۔

محمد یونس کے مطابق اگر عوام اصلاحات کے حق میں ووٹ دیتے ہیں تو “نئے بنگلا دیش” کی بنیاد رکھی جا سکے گی۔ انتخابات کے بعد وہ نگراں حکومت سے دستبردار ہو جائیں گے۔

واضح رہے کہ شیخ حسینہ اس وقت بھارت میں روپوش ہیں، جہاں وہ مظاہرین کے دباؤ کے بعد فرار ہو گئی تھیں۔ انہیں نومبر میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے الزام میں غیر حاضری میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

مقبول خبریں