سعودی عرب میں محنت مزدوری کرنے والا بھارتی مسلم نوجوان انجام سے بے خبر اپنی بچپن کی پسند سے شادی کے لیے بھارت لوٹا تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 26 سالہ ارمان مدینہ میں بطور ٹائل ورکر کام کرتا تھا اور چند ماہ قبل ہی اپنے گاؤں لوٹا تھا۔
ارمان اپنی پڑوسی ہندو لڑکی کاجل سینی کے ساتھ شادی کرنا چاہتا تھا۔ دونوں ایک دوسرے سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔
مسلم نوجوان نے اپنے گھر والوں کو شادی کا پیغام لے کر کاجل کے گھر بھی بھیجا تھا اور کچھ عرصے بعد لڑکی کے والدین نے ہامی بھی بھرلی تھی۔
کاجل کے ساتھ شادی کے سپنے سجائے ارمان گاؤں واپس آیا تھا اور اس بار اپنی محبت کو بیاہ کر ساتھ ہی لے جانا چاہتا تھا۔
تاہم کاجل کے بھائی اس رشتے سے خوش نہ تھے اور موقع دیکھ کر دو بھائیوں نے ارمان کو پکڑ لیا جب کہ تیسرے نے چھری کے وار کرکے ارمان کو بیدردی سے قتل کردیا۔
بھائیوں کا خون سفید ہوچکا تھا۔ جب ارمان کو بچانے کاجل آئی تو انھوں نے اپنی سگی بہن کو بھی نہ بخشا اور موت کے گھاٹ اتار دیا۔
لڑکی کے بھائیوں اور اہل خانہ نے دونوں کی لاشوں کو دریا کنارے ایک گڑھا کھود کر ڈال دیا اور تینوں بھائی فرار ہوگئے۔
ادھر ارمان کے گھر والوں نے اپنے بیٹے کی تلاش کی کوششوں سے تھک ہار کر تھانے میں شکایت درج کرائی اور شک کاجل کے گھر والوں پر ظاہر کیا۔
پولیس نے تحقیقات شروع کی اور جلد ہی قبر تک جا پہنچے جس کے بعد کاجل کے والد اور تین بھائیوں کو دوسرے شہر جاکر گرفتار کرلیا گیا۔