پاکستان نے غزہ پیس بورڈ کا ممبر بننے کی رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔ اس کے ساتھ سات دیگر مسلم ممالک نے بھی غزہ پیس بورڈ کا ممبر بننے کی رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
ان ممالک میں سعودی عرب ، ترکیہ ، قطر، مصر، اردن اور انڈونیشیا شامل ہیں۔ رضامندی ظاہر کرنے کے بعد ان تمام مسلم ممالک نے مشترکہ بیان بھی جاری کیا ہے۔ان ممالک کے وزرا خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس بورڈ آف پیس سے امن سلامتی کی راہ ہموار ہونے کی امید ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی رضامندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے امن منصوبے میں معاونت کے لیے دعوت قبول کی ہے۔مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کو امید ہے کہ اس سے فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کے لیے راستہ بنے گا۔
پہلا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کو اس بورڈ آف پیس کا ممبر بننا چاہیے تھا۔ کچھ دوستوں کی رائے کہ نہیں بننا چاہیے تھا۔ لیکن میں سمجھتا ہوں بالخصوص فلسطین پر پاکستان کو کوئی الگ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔
ہمیں امت مسلمہ کے ساتھ چلنا چاہیے۔ جو موقف ہمارے دوست اسلامی ممالک کا ہو ہمیں وہی موقف رکھنا چاہیے۔ اب دیکھیں جب ترکیہ سعودی عرب بورڈ آف پیس کے ساتھ کھڑے ہیں تو ہمیں اس کی مخالفت کیوں کرنی ہے۔ پاکستان کو اپنے مسلم برادر دوست ممالک کے ساتھ مل کر چلنا ہے۔ ہم اپنے دوستوں سے الگ نہیں چل سکتے۔ میں سمجھتا ہوں سات اسلامی ممالک کا اس بورڈ آف پیس کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ بھی اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کی ایک مثال ہے۔
ورنہ اسلامی دنیا کے حوالے سے یہ گلہ رہتا ہے کہ ان میں اتحاد نہیں ہے۔ اگر اسلامی ممالک اکٹھے چلنا شروع کر دیں تو ان کی بات میں وزن بڑھ جائے گا۔اگر اسلامی ممالک بورڈ آف پیس میں شمولیت سے انکار کر دیتے تو کیا ہوتا۔ میں سمجھتا ہوں اس سے مسلم ممالک کا نقصان تھا۔ شائد بورڈ آف پیس پھر بھی بن جاتا۔ آپ اس کی ساکھ پر ضرور سوال کرتے۔ لیکن آج کل ساکھ کی نسبت حقائق زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ حقیقت یہی ہوتی کہ بورڈ آف پیس پھر بھی ہوتا اور مسلم ممالک نہ ہوتے۔ یہ کوئی اچھی شکل نہ تھی۔ دوستوں کو اعتراض ہے کہ اس بورڈ آف پیس میں امریکی صدر ٹرمپ کو غیر معمولی طاقت حاصل ہے۔ ویسے تو آپ دیکھیں روس بھی اس بورڈ آف پیس کا ممبر بننے کے لیے تیار ہے۔ بلکہ روس تو صدر ٹرمپ کو ایک ارب ڈالر بھی دینے کے لیے تیار ہے۔
اس لیے ٹرمپ کی غیر معمولی طاقت تو تب ہی ختم ہو گئی جب روس بھی بورڈ آف پیس میں موجود ہے۔ ویسے ایک سوال یہ بھی ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے پاس ایسی کونسی طاقت اس وقت نہیں ہے جو اس بورڈ آف پیس سے انھیں مل جائے گی۔ جہاں تک ایک ارب ڈالر کا سوال ہے تو فی الحال پہلے تین سال کے لیے بورڈآف پیس کی ممبر شپ کے لیے ایک ارب ڈالر کی شرط نہیں ہے۔ یہ اگلے تین سال کی بات ہے۔ پتہ نہیں تب تک اس بورڈ آف پیس کی کیا شکل ہوگی۔
جہاں تک اس اعتراض کا تعلق ہے کہ یہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کا متبادل پلیٹ فارم بننے جا رہا ہے۔ میں اس بات کو کافی حد تک درست سمجھتا ہوں۔ امریکا اقوام متحدہ کی موجودہ شکل سے خوش نہیں ہے۔ امریکا سمجھتا ہے کہ اقوام متحدہ میں اس کی حاکمیت محدود ہے۔ ویٹو باقی ممالک کے پاس بھی ہے۔ اس کی باتیں بھی ویٹو ہو جاتی ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنر ل اسمبلی میں بھی اس کے پاس ووٹ کم ہوتے ہیں۔ اسی لیے ہم دیکھ رہے ہیں کہ امریکا آہستہ آہستہ اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں سے نکلتا جا رہا ہے۔
امریکا کی اقوام متحدہ میں دلچسپی کم ہوتی جا رہی ہے۔ امریکا اقوام متحدہ کے چارٹرکی پاسداری کرنے میں بھی کوئی خاص یقین نہیں رکھتا۔ حال ہی میں وینزویلا اس کی ایک مثال ہے۔ ہم نے اقوام متحدہ کو مکمل طور پر بے بس دیکھا ہے۔ فلسطین اور غزہ کے معاملہ میں بھی اقوام متحدہ بے بس نظر آئی ہے۔ اس لیے تنازعات کے حل اور جنگیں رکوانے میں اقوام متحدہ کا روز بروز کردار بے اثر ہو تا جا رہا ہے۔
یہ بات سب کہہ رہے ہیں کہ اقوام متحدہ کی افادیت کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ اب اگر اقوام متحدہ غزہ کا مسئلہ حل کرنے میں ناکام نظر آئی ہے تو کیا امریکا کو غیر معمولی کردار ادا کرنے سے روک کر کوئی فائدہ ہو رہا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ امریکا نے عراق اور لیبیا میں بھی اقوام متحدہ کی کوئی پرواہ نہیں کی ہے۔ روس یوکرین کے معاملہ پر اقوام متحدہ کی کوئی پرواہ نہیں کر رہا۔ اس لیے بڑی طاقتیں خود ہی اقوام متحدہ کو غیر موثر اور کمزور کر رہی ہیں۔ کمزور ممالک نے تو اقوام متحدہ کو طاقت نہیں دینی ہے۔ اگر امریکا اقوام متحدہ کو نہیں مانتا تو اقوام متحدہ کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اگر امریکا کا بورڈ آف پیس غزہ کو امن دے سکتا ہے تو ہمیں اسے کیوں موقع نہیں دینا چاہیے۔
جب اسلامی ممالک بورڈ آف پیس میں موجود ہونگے تو فیصلوں میں ان کی مشاورت اور رضامندی بھی ہوگی۔ میں سمجھتا ہوں اگر ایک لمحہ کے لیے یہ مان لیا جائے کہ امریکا کوئی متبادل پلیٹ فارم بنا رہا ہے تو یہ مسلم ممالک کے لیے یہ کیسے خطرہ ہے۔ خطرہ ان ممالک کے لیے ہونا چاہیے جن کے پاس اقوام متحدہ میں ویٹو پاور ہے۔ مسلم ممالک نے بھی او آئی سی بنائی ہوئی ہے۔
آپ اس کو بھی اقوام متحدہ کا متبادل پلیٹ فارم کہہ سکتے ہیں۔ یورپ نے یورپی یونین بنائی ہوئی ہے۔ افریقی ممالک نے بھی اپنی تنظیم بنائی ہوئی ہے۔ عرب ممالک کی جی سی سی بھی موجود ہے۔ اس لیے جب اتنی متبادل تنظیمیں موجود ہیں تو ایک بورڈ آف پیس بن جائے گا تو کیا فرق پڑتا ہے۔ جی سیون ہے، جی ٹونٹی ہے، بریگزٹ ہے۔ اس لیے بورڈ آف پیس کوئی پہلی تنظیم نہیں جو اقوام متحدہ سے علیحدہ بن رہی ہے۔
اب جہاں تک یہ سوال ہے کہ کیا پاکستان کو غزہ میں فوج بھیجنی چاہیے۔ ویسے تو اسرائیل پاکستان کی فوجیں آنے کے خلاف ہے۔ لیکن پھر بھی اگر پاکستان کو پیشکش ہو تو پاکستان کو ساتھی اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر فیصلہ کرنا چاہیے۔ اگر باقی اسلامی ممالک کم یا زیادہ فوج بھیجنے کے لیے تیار ہوں تو ہمیں بھی بھیجنی چاہیے۔ کیوں انکار کرنا چاہیے۔ پاکستانی فوج غزہ کے فلسطینیوں کی محافظ ہوگی۔ اس لیے اگر پاکستان کو کوئی اہم کردار ملتا ہے تو ضرور ادا کرنا چاہیے۔ دوستوں کو اس بات کا احساس کرنا چاہیے کہ پاکستان سفارتی سطح پر اس قدر اہم ہے کہ ہمیں بورڈ آف پیس میں شامل کیا جا رہا ہے۔ جہاں بڑے فیصلے ہو رہے ہیں ہم وہاں موجود ہیں۔ ورنہ کئی اسلامی ممالک موجود نہیں بھی ہیں۔ دنیا پاکستان کی اہمیت کو مان رہی ہے۔ یہ کافی نہیں۔
جو مخالفت کر رہے ہیں وہ بتا دیں غزہ میں دو سال بمباری جاری رہی اس کو روکنے کا کوئی حل ان کے پاس موجود تھا۔ ہزاروں بچے مر گئے، لاکھوں لوگ مر گئے کوئی کچھ کر سکا ہے۔ اگر کچھ ہونے لگا ہے ۔ اگر امن کی کوئی امید پیدا ہوئی ہے تو اس کی سپورٹ کرنے کی بجائے اس کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے سے کیا فائدہ ہوگا۔ یہ بھی سوچنے کی بات ہے۔