گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ

سندھ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر مطالبہ کروں گا کہ واقعے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے


ویب ڈیسک January 22, 2026

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کردیا ہے۔

گورنر ہاوس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  سانحہ گل پلازہ کو ایک ہفتہ ہونے والا ہے، لواحقین کی آہیں اور سسکیاں رک نہیں رہی ہیں۔میرے جذبات متاثرین کی فیملیز  کے ساتھ ہیں ۔یہ فیملیز سوال کررہی ہیں کہ ہوا کیا ہے ، کیوں ہوا ہے ، کسی نے روکا کیوں نہیں ۔لوگ پوچھ  رہے ہیں کہ ذمے دار کون ہے۔ وہ ہچکیاں ، مجبور بے بس لوگوں کا رونا کسی احساس رکھنے والے شخص کے لیے صدمے اور موت کا باعث ہونا چاہیے ۔

گورنر سندھ  نے کہا کہ میرے جذبات تھے میں بھی وہاں گیا ۔جب میں نے دیکھا کہ آگ بڑھ رہی تھی ، پھیل رہی تھی دو گھنٹے بعد بارہ پچپن پر میں پہنچا ۔میں اس روڈ سے گیا جہاں بی آر ٹی کا کام چل رہا تھا ۔جب میں وہاں پہنچا تو ڈی آئی جی جنوبی ، ڈی آئی جی ٹریفک کو فون کیا ۔ڈی آئی جی ٹریفک کو بتایا گرومندر پر ٹریفک جام ہے وہ کھلوا دیں ۔میں نے لواحقین کو گلے سے لگایا ۔میں نے وہاں سے نیوی حکام کو فون کیا ۔آرمی ، نیوی ، کے پی ٹی ، رینجرز کو سلام جنھوں نے پہنچ کر 22 جانوں کو ریسکیو کیا ۔کور کمانڈر بھی واقعے کو مانیٹر کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ  ان لاشوں کے لواحقین پر مرہم رکھنے کے بجائے سیاسی بیانات دے کر انکے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے بعد بھی واقعے پر سیاست ہورہی ہے ۔بلیم گیم ہورہا ہے ، سازشیں ہورہی ہیں ایسا کوئی پلان بنایا جائے کہ کسی پر ملبہ ڈال کر ہم سرخرو ہو جائیں۔ذمے دار اپنے اوپر سے ذمے داری ہٹا کر دوسروں پر ڈال کو بری ہونا چاہتے ہیں ۔کچھ لوگ آگ میں جل کر مر گئے اور کچھ لوگ باہر معاشی طور پر مر گئے۔

گورنر سندھ نے کہا کہ مجھے ظفر عباس نے بتایا کوئی کام نہیں ہورہا ہے۔ لواحقین خود پہنچ کر اپنے پیاروں کی باقیات جمع کررہے ہیں۔ میں نے نہیں کہا کہ وزیراعلیٰ اور مئیر کیوں نہیں پہنچے ۔میں وہاں سیاست کرنے نہیں گیا تھا ۔شہر مشتعل تھا ، لوگ مشتعل تھے ، زبان قابو میں رکھی ایک ذمے دار شہری ہونے کا ثبوت دیا ۔اگر سیاست کرنا ہوتی تو ہم سے بڑی سیاست کون کرسکتا  ہے ۔اس شہر میں یہ تعین نہیں ہوا کہ انتظامیہ میں سے ذمے دار کون تھا ۔ہائیڈرنٹس کون چلا رہا ہے ، کتنے ان میں سے غیر قانونی ہیں۔

گورنر سندھ نے کہا کہ حل نکالنے کے بجائے سازشیں تیار ہونا شروع ہوگئی ہیں ۔سازشیں کرنی ہیں تو بھائی ہم بھی تیار بیٹھے ہیں ۔تین سالہ ابراہیم گٹر میں گر کر مر جائے اور ہم چپ بیٹھیں ۔ہم بولیں گے تو میسج آئے گا کہ گورنر صاحب آپ نہیں بولیے گا۔ آپ کا اختیار نہیں آپ کی کرسی ہل جائے گی ۔میں کمزور نہیں تمھارے ڈرانے سے دھمکانے سے رک جاؤں گا ۔

میں سندھ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر مطالبہ کروں گا کہ اس واقعے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔گورنر سندھ نے کہا کہ اس واقعے کو سیاسی رنگ نہ دیں اب نہیں چلے گا ، یہ کیس بند نہیں ہوگا ۔تاریخ میں لکھا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سے کہوں گا کہ انتظامیہ کو رکھیں ۔کیا لوگ اپ کو مس گائیڈ تو نہیں کر رہے ۔کیوں دو گھنٹے تک آگ نہیں بجھ سکیں۔صرف کچھ لوگوں کو ہٹا کر لوگوں کے جذبات ٹھنڈے نہیں ہوں گے۔

گورنر سندھ نے کہا کہ میں چشم دید گواہ ہوں کہ وہاں کیسے کام ہورہا تھا ۔لوگ جل کر مر جائیں ،لوگ ٹرالر کے نیچے آجائیں ، گٹر میں گر کر مر جائیں ہم سیاست کررہے ہیں ۔شرم نہیں آرہی ہے۔گورنر سندھ نے کہا کہ یہ جو چار دن سے ہورہا ہے۔ نہ یہ غلط ہے ۔میرا وہاں پہنچنا بھی کسی کو ہضم  نہیں ہورہا ۔اب کچھ ایسا کریں کہ یہ ملبہ ان سے ہٹے ۔ارے تم سازش کر لو لیکن کیا قدرت ، خدا کی ذات تمھیں چھوڑ دے گی ۔جن اداروں کا یہ کام تھا وہی ادارے اسکے ذمے دار ہیں۔تحقیقات وہاں ہوتی ہے جہاں ذمے داروں کا معلوم نہ ہو ۔یہاں تو سب کو پتہ ہے کہ ذمے دار کون ہے۔

گورنر سندھ نے کہا ریسکیو بروقت کیوں نہیں پہنچی ۔کیوں نہ آگ بجھائی جاسکی۔کیوں دو گھنٹے تک انتظار ہوتا رہا ۔لواحقین مجھ سے کہتے ہیں کہ جوڈیشل انکوائری سے کم پر یہ راضی نہیں۔گورنر سندھ نے کہا کہ جو ضلعی انتظامیہ کے ایم سی ہے وہ کئی سالوں سے سیٹوں پر بیٹھے ہیں ۔کیا اس سے پہلے جتنی آگ لگی ہیں انکی تحقیقات ہوگئی۔ ذمے داروں کا تعین سندھ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کریں ، کمیشن بنائیں جو سیاسی بلیم گیم کر رہے ہیں ان کو بھی اس میں شامل کریں۔

مقبول خبریں