وفاقی وزیر اور مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کی تقریر پرجواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی سلامتی پرکسی سے درس لینے کے محتاج نہیں ہیں۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے ہوتے ہوئے پاکستان کی سلامتی اور استحکام پر کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، اتنےٹھنڈے، گرم ایوانوں کے اندر تقریریں کرنا آسان ہے، جس عمل پر فلسطین کی عوام نے جشن منایا ہم اس پر تنقید کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آج اگر پاکستان کو سینٹر اسٹیج ملا ہے تو پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے، سعوی عرب ،ترکیہ ، بحرین یو اے ای مسلمان ملک اور ہمارا بہترین دوست ملک نہیں، مسلمان ممالک کو امن کیلئے کردار ادا کرنے کاموقع ملا۔
احسن اقبال نے کہا کہ اسرائیل ایک سفاک ملک ہے اس اصولی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں، پاکستان کی آزادی اور خود مختاری کی مثال قائم کی ہے، امریکا نے ایٹمی دھماکے روکنے کیلئے پانچ فون کالز کیے، پوری دنیا کے باجود جرت کے ساتھ فیصلہ کیا، ہم پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری کے محافظ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس حکومت کے ہوتے ہوئے پاکستان کو کوئی میلی نگاہ سے نہیں دے سکتا، ہمیں کوئی بزدلی اور غفلت کا طعنہ نہیں دے سکتا، کوئی میلی آنکھ سے دیکھے گا تو آنکھیں نوچ لیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ غزہ کی وجہ سے ہماری دل چھلنی ہیں، بورڈ آف پیس میں پاکستان نہ جاتا تو یہ کہتے پاکستان تنہا رہ گیا، ہم برابر اسلامی ملکوں کے ساتھ غزہ کے امن کیلئے حصہ ڈال سکتے ہیں، کیا سعودی عرب ترکیے قطر متحدہ عرب امارات مسلمان ملک نہیں ہے، کیا یہ تمام ممالک پاکستان کے دوست نہیں ہیں۔