78 سال بعد امریکا عالمی ادارہ صحت سے دستبردار ہوگیا

امریکا پر 130–270 ملین ڈالر سے زائد واجبات ابھی بقایا ہیں اور یہ بھی تنازعے کا حصہ ہیں


ویب ڈیسک January 23, 2026

امریکا نے 78 سال کے بعد عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے باضابطہ طور پر دستبرداری اختیار کر لی ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ ہو گیا ہے جس سے امریکا کا ڈبلیو ایچ او کے ساتھ عملی تعلق بالکل ختم ہو گیا ہے۔

امریکی حکومت نے کہا ہے کہ ڈبلیو ایچ او نے کورونا وبا کے دوران مناسب طریقے سے کام نہیں کیا۔ ادارے میں سیاسی اثرات اور اصلاحات نہ ہونے کی وجہ سے وہ امریکا کے مفادات کا تحفظ نہیں کر پا رہا ہے۔

دوسری جانب ڈبلیو ایچ او کے مطابق امریکا پر 130–270 ملین ڈالر سے زائد واجبات ابھی بقایا ہیں اور یہ بھی تنازعے کا حصہ ہیں۔

امریکا کا کہنا ہے اب وہ ڈبلیو ایچ او کے بجائے مستقل طور پر دیگر ممالک کے ساتھ دوطرفہ معاہدوں میں کام کرے گا، جیسے امراض پر نگرانی اور ویکسین کے مسائل۔

اس فیصلے کے بعد عالمی صحت کے ماہرین نے اس فیصلہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈبلیو ایچ او عالمی سطح پر امراض کی نگرانی اور بروقت معلومات فراہم کرتا ہے۔ امریکا ایسے ڈیٹا تک رسائی کھو سکتا ہے جو مستقبل میں وائرس یا فلو جیسے خطرات سے بچاؤ میں مدد دے سکتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا ڈبلیو ایچ او میں 1948 میں شمولیت اختیار کرنے والا ایک بانی رکن تھا اور اس کے بڑے مالی معاونین میں سے تھا جو کہ ادارے کا کُل 18٪ تک ادا کرتا تھا۔

مقبول خبریں