معروف امریکی اداکارہ اور بزنس ویمن پیرس ہلٹن نے 19 سال کی عمر میں اپنی نجی ویڈیو لیک ہونے کے تکلیف دہ واقعے پر ایک بار پھر کھل کر بات کی ہے۔
فیشن اور انٹرٹینمنٹ کی دنیا میں اثرورسوخ رکھنے اور سماجی مسائل پر آواز اٹھانے والی پیرس ہلٹن حال ہی میں جعلی تصاویر اور ویڈیوز سے متعلق قانون پر گفتگو کے دوران جذباتی ہو گئیں۔
کانگریس ویمن الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز کے ساتھ پریس کانفرنس میں پیرس ہلٹن نے کہا کہ 19 سال کی عمر میں ان کی ایک نجی ویڈیو بغیر اجازت دنیا کے سامنے لائی گئی، جسے لوگ اسکینڈل کہتے رہے، حالانکہ وہ سراسر استحصال تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ایسے قوانین موجود نہیں تھے جو انہیں تحفظ فراہم کر سکتے، اور ان کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی کے لیے الفاظ تک موجود نہیں تھے۔
پیرس نے انکشاف کیا کہ ویڈیو لیک ہونے کے بعد انہیں شدید شرمندگی، خوف اور تذلیل کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگ ان کا مذاق اڑاتے رہے، انہیں طنز کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے درد کو محض خبروں اور کلکس کے لیے استعمال کیا گیا۔
پیرس نے انکشاف کیا کہ آج بھی ان کی اے آئی کے ذریعے تیار کردہ ایک لاکھ سے زائد جعلی فحش تصاویر موجود ہیں۔

ان کے مطابق اس واقعے نے نہ صرف ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا بلکہ انہیں اپنے وجود، عزت اور خود اعتمادی پر اختیار بھی کھونا پڑا۔
واضح رہے کہ پیرس ہلٹن نے یہ نجی ویڈیو 2001 میں اپنے سابق بوائے فرینڈ رک سالومون کے ساتھ بنائی تھی۔
اپنی کتاب ’پیرس: دی میموئر‘ میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ویڈیو کو بناتے وقت دباؤ میں تھیں اور انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ یہ کبھی منظر عام پر نہیں آئے گی۔