پاکستان تحریک انصاف نے حکومت سے غزہ پیس بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ واپس لینے اور عوامی ریفرنڈم کروانے کا مطالبہ کردیا۔
مرکزی سیکریٹری اطلاعات پاکستان تحریک انصاف شیخ وقاص اکرم نے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پاکستان کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہیں، اور غزہ پیس بورڈ پر ہمارا موقف بالکل واضح ہے، ہمارے سیکرٹری جنرل اس پر آن بورڈ ہیں، ہم نے وزیر اعظم کے غزہ پیس بورڈ پر دستخط کرنے تک اپنا بیان جاری نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیر اعظم کے ماضی کے ٹوئیٹس کو میں نے دوبارہ شیئر کیا، آج صرف اپنی حکومت کو عالمی سطح پر منوانے کے لیے اتنا آگے چلے گئے ہیں۔
انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ کیا فلسطینی اس حل کو قبول کرتے ہیں؟ کیا اس غزہ پیس بورڈ میں فلسطینیوں کی کوئی نمائندگی ہے؟
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ جو فلسطینیوں کو قابل قبول نہیں وہ پی ٹی آئی کو بھی قابل قبول نہیں ہے۔ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کہا کہ معاملے کو پارلیمنٹ میں لے کر آتے، حکومت نے بورڈ میں شمولیت سے قبل عوام اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا ہے ، یہ اپنے لائے گئے نظام کی ہی بے توقیر کر رہے ہیں، ہم نے تو ریفرنڈم کا بھی کہا ہے۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ فلسطین کے حوالے سے قائداعظم کے بیانات سب کے سامنے ہیں، فلسطین کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی کا بیان بھی واضح ہے، ہم آفیشلی طور پر مطالبہ کرتے ہیں حکومت غزہ پیس بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ واپس لے۔
شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بیٹھے بٹھائے نئی یو این بنا لی ہے، حکومت کی توجیہات ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہیں، بہت سے اسلامی ملک تو پہلے ہی اسرائیل کو تسلیم کرتے ہیں، پاسپورٹ پر جب ہم نے اسرائیل کے حوالے سے جملہ لکھا تھا کیا وہ جذبات میں آ کر لکھا ؟
انہوں نے کہا کہ فلسطین کے نام پر کئی ساری جماعتیں ساری زندگی سیاست کرتی رہی ہیں، اپوزیشن کا فلسطین کے حوالے سے موقف واضح ہے، اپوزیشن لیڈر بھی ا س موقف کو سامنے رکھیں گے، اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو اس پر کھل کر بات کرنی چاہیے، اچکزئی صاحب کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اپوزیشن کا موقف سامنے رکھیں۔
انہوں نے کہا کہ میں اپوزیشن لیڈر سے درخواست کروں گا کہ وہ اس مسئلے کو اٹھائیں اور پارلیمنٹ میں آواز بلند کریں۔
شیخ وقاص نے کہا کہ فارم 47 کی حکومت کو یہ اختیار نہیں کہ وہ قوم کے اتنے بڑے بڑے فیصلے لے لیں، ہم کہتے ہیں اس معاملے پر لوگوں کو اعتماد میں لیتے،اس معاملے پر بات ہو جاتی ، سیاست میں بیٹھتے ہیں بات کرتے ہیں۔
پروگرام میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان موجود معاملات سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان چیزیں آخر میں حل ہو جاتی ہیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی ایک سکے کے دو رخ ہیں ، یہ دونوں جماعتیں لوگوں کو بے وقوف بنا رہی ہیں، کراچی تو ان کے لیے سونے کی چڑیا ہے، ان کا یہی طریقہ کار ہے، تقریریں کرتے ہیں ، بے وقوف بناتے ہیں۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ کراچی کو وفاق بنانے کی باتیں بھی کسی وجہ سے ہی کی جاتی ہیں ، یہ لوگ اس نظام سے بہت خوش ہیں۔
مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اپوزیشن کے 8 فروری کے احتجاج سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم ا لائنس کے پابند ہیں، اپوزیشن الائنس میں ہم سب سے بڑی جماعت ہیں سب سے زیادہ انتخابات میں ہمارا مینڈیٹ چوری ہوا ہے، احتجاج کے حوالےسے حکمت عملی محمود اچکزئی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے صوبائی صدور اس پر محنت کر رہے ہیں کہ اس تحریک پر عمل کیسے کرنا ہے، دیکھنا ہے کہ کیسے اپنا احتجاج کرنا ہے، ہم تاجروں سے ملیں گے کیونکہ زبردستی کسی کی دکانیں بن نہیں کروا سکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ احتجاجی حکمت عملی کے حوالے سے ابھی فائنل لائحہ عمل ہماری سیاسی کمیٹی کے سامنے نہیں رکھا گیا، جیسے ہی سیکریٹری جنرل یہ معاملہ سیاسی کمیٹی کے سامنے رکھیں گے ہم سب کو آگاہ کریں گے، ہماری طرف سے جو فائنل ہو گا تب آفیشلی اس حوالےسے بتائیں گے۔
شیخ وقاص اکرم نے واضح کیا کہ ہمارا احتجا ج پر امن اور آئینی ہو گا، ہمارے احتجاج کے پلان میں کوئی ایسی چیز نہیں جو کسی سے چھپا کر رکھنا ہو۔