سانحہ گل پلازہ

سانحہ گل پلازہ اپنے پیچھے بہت سے سوالات چھوڑگیا۔ آگ کیوں لگی، اور لوگوں کو باہر نکلنے کا موقع کیوں نہ مل سکا؟


ایم جے گوہر January 24, 2026

ملک کا سب سے بڑا شہر اور پاکستان کا معاشی حب کراچی گوناگوں مسائل کا شکار ہے۔ یہ شہر بھی وطن عزیزکا دارالخلافہ ہوا کرتا تھا، صبح سویرے اس کی سڑکیں پانی سے دھلا کرتی تھیں۔ صفائی ستھرائی اور خوب صورتی میں یہ شہر اپنی مثال آپ تھا۔ کراچی کو روشنیوں کا شہر ہونے کا اعزاز بھی حاصل رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے مسائل اور مشکلات میں اضافہ ہوتا رہا اور آج یہ مسائلستان بن چکا ہے۔

یہ وہ شہر ہے جہاں سے سیاسی تحریکیں جنم لیتی تھیں اور حکومتوں کی تبدیلی کا سبب بن جاتی تھیں لیکن آج کا شہرکراچی حکومتوں کی بے حسی و بے رخی کے باعث مسائل کی آماج گاہ بن چکا ہے۔ کراچی جو بابائے وطن قائد اعظم محمد علی جناح کی جائے پیدائش اور ان کی آخری آرام گاہ کی نسبت سے شہر قائد کا اعزاز رکھتا ہے، افسوس کہ آج ارباب حکومت کی بے حسی کے باعث لاوارث سمجھا جاتا ہے۔

کچی آبادیوں سے لے کر قانونی طور پر منظور شدہ مکانات، بلڈنگیں اور پلازے حکومتی اداروں کی ناقص حکمت عملی کے باعث مسائل کا گڑھ اور سانحات کا شکار ہوتے جا رہے ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ ہر حادثے اور سانحے کے بعد ارباب اختیار ایک جھرجھری لیتے ہیں، ذرائع ابلاغ میں ایک شور برپا ہوتا ہے، حکومتی عہدیدار آئندہ ایسے سانحات نہ ہونے کی یقین دہانیاں کرا کے عوام الناس کے غم و غصے اور دکھ کی شدت کو کم کرنے کا زبانی کلامی فرض ادا کرتے ہیں، کچھ عرصہ گزرتا ہے کہ وقت کی دھول میں سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے۔

گل پلازہ جو کراچی شہر میں اہم تجارتی مرکز تھا، ہفتے کو لگنے والی آگ نے اسے جلا کر راکھ کر دیا۔ یہاں درجنوں تاجروں کی دکانیں تھیں جن میں کروڑوں اور اربوں کا تجارتی سامان رکھا ہوا تھا، روزانہ ہزاروں لوگ یہاں خریداری کے لیے آتے ہیں۔ 30 گھنٹے سے زائد وقت تک گل پلازہ شعلوں اور دھوئیں میں گھرا رہا، لیکن اس کی آگ پر قابو پانا فائر فائٹنگ عملے کے لیے ایک امتحان بن گیا۔ ایک طرف دکان داروں کا کروڑوں کا سامان جل کر راکھ ہوا تو دوسری جانب خریداری کے لیے آئے درجنوں لوگ آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آ کر اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق مرنے والوں کی لاشیں اس بری طرح سے جھلس کر ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئی ہیں کہ ان کی شناخت بھی ڈی این اے ٹیسٹ کے بغیر ممکن نہیں رہی۔

تادم تحریر درجنوں افراد لاپتہ ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ لاشیں ملبے کے نیچے دبی ہوئی ہیں۔ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد ہی مرحوم افراد کے درست اعداد و شمار سامنے آ سکیں گے۔ جن خاندانوں کے پیارے گل پلازہ سانحے میں آگ کی نذر ہو گئے ان گھروں میں قیامت صغریٰ برپا ہے۔ سانحہ گل پلازہ نے پورے شہر قائد کو سوگ میں ڈبو دیا ہے۔ ہرچند کہ حکومت سندھ نے مرحومین افراد کے لیے فی کس ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا ہے اور گل پلازہ کے متاثرہ تاجروں کے مالی نقصانات کے ازالے کی بھی یقین دہانیاں کرائی ہیں۔ آگ لگنے کی وجوہات و اسباب جاننے کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

اخباری خبروں تک متعلقہ حکومتی ادارے بھی حرکت میں آگئے ہیں اور سانحے کی مکمل تحقیقات کی یقین دہانیاں کرائی جا رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے لے کر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب تک سب اپنی اپنی ’’ ذمے داریاں‘‘ نبھا رہے ہیں۔ ادھر قومی اسمبلی میں بھی سانحہ گل پلازہ کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ حکومتی اور اپوزیشن ارکان آگ کے شعلوں اور سوختہ لاشوں پر اپنی اپنی سیاسی دکان چمکانے کے لیے ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں۔ حکومتی اتحاد کی حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور ہمارے وزیر دفاع خواجہ آصف نے 18 ویں ترمیم کو ڈھکوسلا قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت کے اختیارات پر سوال اٹھا دیا۔ کراچی کی نمایندہ جماعت ایم کیو ایم کے ارکان نے مطالبہ کیا کہ معمول کی کارروائی معطل کرکے گل پلازہ میں ہونے والی آتش زدگی پر بحث کرائی جائے۔

سانحہ گل پلازہ اپنے پیچھے بہت سے سوالات چھوڑگیا۔ آگ کیوں لگی، اور لوگوں کو باہر نکلنے کا موقع کیوں نہ مل سکا؟ بیرونی انخلا کے راستے کیوں بند تھے؟ کہاں اور کیا کیا ناجائز تعمیرات کی گئیں؟ کون کون سے ادارے اس میں ملوث تھے؟ فائر فائٹنگ کا نظام ناقص کیوں رہا؟ بروقت آگ پر قابو کیوں نہ پایا جا سکا؟ ایسے بہت سے سوالات کا جواب تحقیقات کے بعد ہی سامنے آ سکے گا۔ اہم سوال یہ ہے کہ آیندہ ایسے سانحات سے بچنے کے لیے حکومتی سطح پر کیا قومی اقدامات اٹھائے جائیں اور کیا گل پلازہ سانحے کے ذمے داروں کو احتساب و انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا؟

سانحہ گل پلازہ کے حوالے سے چند اشعار۔

آگ نے سب جلا کے خاک کیا

دامنِ گل کو چاک چاک کیا

آگ تھی اک دھواں تھا شعلے تھے

چیختی بے بسی کے ہیولے تھے

سانحہ بیت گیا زخم فروزاں ہی رہے

کار سرکار گریزاں تھے،گریزاں ہی رہے

(ایم جے گوہر) 

مقبول خبریں