لاہور:
وفاقی وزیر تعلیم و ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم نے کبھی نہیں کہا کہ اٹھارویں ترمیم رول بیک کریں بلکہ ہم کہتے ہیں اس پر عمل ہونا چاہئے۔
نیشنل کالج آف آرٹس لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کو میں نے خط لکھا کہ خاموش تماشائی نہ بنیں، پالیسی ساز اداروں کو کوئی نہ کوئی فیصلہ کرنا ہوگا، ہم نے کہا ہے کہ کراچی کو وفاق لیکر فاٹا بنادے، ایسی جمہوریت جس کا عوام کو فائدہ نہ ہو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ تبدیلی نعرہ نہیں عمل کرنے کی چیز ہے، سندھ میں سترہ سال تسلسل کے ساتھ ایک ہی پارٹی کی حکومت ہے، سندھ کا ستر فیصد کراچی دیتا ہے، کراچی میں بڑے سے بڑے حادثے کو بے اعتناعی سے دیکھا جاتا ہے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سندھ کو وفاق سے پندرہ سالوں میں بائیس ہزار ارب روپے ملے، یہ پیسے کراچی میں نہیں لگے تو لاڑکانہ میں لگے ہوں گے۔ کراچی میں جب آگ لگی تو ویک اینڈ تھا، آگ لگائی گئی ہے یا لگی ہے اس کا کچھ پتہ نہیں، آگ میں لوگوں کی بڑی تعداد شہید ہوگئی، سو سے زیادہ لوگوں کا پتہ نہیں چل رہا۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ملک میں جمہوریت ہے تو مکالمہ اور مذاکرات ہونے چاہئیں، پہلے آپ بات چیت کرتے ہیں اگر معاملہ حل نہ ہو تو آئین کے تحت بہت کچھ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔