بھارت کو خدشہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بورڈ آف پیس میں مسئلہ کشمیر کو بھی لا سکتے ہیں جس سے بھارت کی سفارتی حکمتِ عملی پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں بھارت کو شمولیت کی دعوت دی ہے، تاہم بھارت کی جانب سے تاحال کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ غزہ بورڈ آف پیس کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور عبوری حکومت کی نگرانی ہے۔
بورڈ میں پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہو چکے ہیں جبکہ 59 ممالک اس پر دستخط کر چکے ہیں۔ ڈیووس میں ہونے والی تقریب میں 19 ممالک نے شرکت کی، تاہم بھارتی وزیراعظم نریندر مودی شریک نہیں ہوئے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق بھارت کے فیصلے سے مغربی ایشیا میں استحکام اور امریکا سے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ مستقبل میں بورڈ آف پیس میں مسئلہ کشمیر کو بھی لا سکتے ہیں۔
تقریب سے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ ماڈل غزہ کے بعد دیگر خطوں تک بھی پھیلایا جا سکتا ہے۔ سابق بھارتی سفیر اکبرالدین نے بورڈ میں شمولیت کی مخالفت کرتے ہوئے اسے اقوامِ متحدہ کی قرارداد 2803 سے متصادم قرار دیا، جبکہ سابق سفیر رنجیت رائے کا کہنا ہے کہ بورڈ کی کوئی واضح مدت مقرر نہیں اور اسے غزہ سے باہر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔