گھریلو تشدد بل پر دستخط؛ بیوی کو گھورنا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی پر سزا کا قانون نافذ

صدر مملکت نے گھریلو تشدد سمیت 7 قوانین کی منظوری دے دی جس کے بعد وہ ایکٹ بن گئے


ویب ڈیسک January 26, 2026

صدر مملکت آصف علی زرداری نے گھریلو تشدد سمیت 7 قوانین کی منظوری دے دی جس کے بعد بیوی پر تشدد، اسے گھورنا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینے پر سزا کا قانون نافذ ہوگیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق صدر مملکت نے گھریلو تشدد ترمیمی بل 2026، دانش سکول اتھارٹی ترمیمی بل کی منظوری دیدی۔

صدر مملکت نے انکم ٹیکس ترمیمی بل،ایکسپوٹ ڈویلپمنٹ فنڈ اور ٹرانسفر آف ریلوے ترمیمی بل پر بھی دستخط کردئیے۔

اس کے علاوہ صدر مملکت نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق نیشنل ٹیرف کمیشن کی بھی توثیق کردی۔

صدر مملکت کے دستخط کے بعد ساتوں قوانین ایکٹ آف پارلیمنٹ بن گئے۔ اس سے قبل تین قوانین مشترکہ اجلاس جبکہ چار قومی اسمبلی اور سینیٹ میں منظور ہوئے تھے۔

گھریلو تشدد بل کیا ہے؟

23 جنوری کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ڈومیسٹک وائلینس (پریوینشن اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ 2026 منظورکیا گیا جس کا اطلاق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پر ہوگا۔

ڈومیسٹک وائلینس ایکٹ 2026ء کا اطلاق بیوی، بچوں، گھر کے بزرگ افراد، لے پالک، ٹرانس جینڈر اور گھر میں ایک ساتھ رہنے والے افراد پر ہوگا۔

قانون میں بیوی، بچوں یا گھر میں رہنے والے دیگر افراد کو گالی دینا، جذباتی یا نفسیاتی طور پر پریشان کرنا بھی جرم ہوگا اور اس جرم کے مرتکب افراد کو تین سال تک کی سزا، ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا۔

ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ 2026 میں بیوی، بچوں کے علاوہ گھر میں معذور افراد یا بزرگ افراد کا تعاقب کرنا بھی جرم ہوگا، بیوی کو مرضی کے بغیر گھر میں دیگر افراد کے ساتھ رکھنا، خاندان کے افراد کی پرائیویسی یا عزت نفس مجروح کرنا بھی جرم قرار دیا گیا۔

ایکٹ کے مطابق بیوی یا گھر میں رہنے والے دیگر افراد کو جسمانی تکلیف پہنچانے کی دھمکی، گھر میں ایک ساتھ رہنے والے کسی بھی فریق پر الزام لگانے، بیوی بچوں یا گھر میں رہنے والے دیگر فریق کا خیال نہ رکھنا بھی قابل سزا جرم ہے۔

ڈومیسٹک وائلینس ایکٹ میں جنسی استحصال کے ساتھ معاشی استحصال بھی شامل ہے اور جرمانہ ادا نہ کرنے پر مزید 6 ماہ کی قید ہوگی۔

ایکٹ میں عدالتوں کو بھی شکایات پر فوری سماعت کے لیے پابند کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ عدالت میں درخواست آنے کے 7 روز کے اندر سماعت ہوگی اور فیصلہ 90 روز میں ہوگا۔

قانون میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ شخص کو مشترکہ رہائش گاہ میں رہنے کا حق حاصل ہوگا یا جوابدہ رہائش کا بندوبست کرےگا یا شیلٹر ہوم مہیا کیا جائے گا، تشدد کرنے والے شخص کو متاثرہ شخص سے دور رہنے کے احکامات بھی دیے جائیں گے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور ہونے والے قانون میں کہا گیا کہ تشدد کرنے والے شخص کو جی پی ایس ٹریکر پہننے کی ہدایت دی جائےگی۔

قانون کے مطابق گھریلو تشدد سے مراد جسمانی، جذباتی، نفسیاتی، جنسی اور معاشی بدسلوکی ہے، جس سے متاثرہ شخص میں خوف پیدا ہو یا جسمانی اور نفسیاتی نقصان ہو۔

ڈومیسٹک وائلینس ایکٹ میں بیوی کو گھورنا، دوسری شادی یا طلاق کی دھمکی دینا بھی جرم قرار دیا گیا ہے اور اس جرم پر کم سے کم 6 ماہ اور زیادہ سے زیادہ 3 سال تک سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔

اسی طرح گالی دینے، جذباتی یا نفسیاتی طور پر پریشان کرنا بھی جرم ہوگا۔

مقبول خبریں