کراچی:
شہر قائد میں سیاسی کشیدگی نے خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں پیپلز پارٹی کی ناراضگی کے بعد متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سمیت متعدد سینئر رہنماؤں کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق چیئرمین ایم کیو ایم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کو فراہم کی گئی سرکاری سیکیورٹی فوری طور پر واپس بلا لی گئی۔
اسی طرح انیس قائم خانی اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کی سیکیورٹی بھی ختم کر دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ نے سیکیورٹی پر تعینات اہلکاروں کو فوری طور پر واپس آنے کی ہدایت جاری کر دی، جس کے بعد متعلقہ موبائلز اور اہلکار واپس بلا لیے گئے۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے ساتھ ایک موبائل اور 8 سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے، جب کہ ڈاکٹر فاروق ستار کے پاس ایک موبائل اور 10 اہلکار موجود تھے۔
اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کے ساتھ ایک موبائل اور 8 اہلکار تعینات تھے، جنہیں واپس لے لیا گیا۔
سیکیورٹی واپس لینے کے اس اچانک اقدام پر ایم کیو ایم نے شدید ردعمل کا فیصلہ کرتے ہوئے کل شام چار بجے ہنگامی پریس کانفرنس طلب کر لی ہے، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان متوقع ہے۔