سندھ کابینہ نے لاء کالجز کے بورڈ آف گورنرز میں 7 غیر سرکاری اراکین کی تقرری کی منظوری دے دی ہے۔
سندھ کابینہ نے لیاری ایکسپریس وے کے باقی رہ جانے والے 53 متاثرین کو معاوضہ دینے کے مسئلے پر غور کیا۔ 53 متاثرین عدالت سے رجوع کر چکے ہیں اور انہوں نے 315 ملین روپے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔
کابینہ کا مؤقف ہے کہ لیاری ایکسپریس وے وفاقی حکومت کا منصوبہ تھا، اگر دعویدار اپنے دعوے میں درست ثابت ہوتے ہیں تو ہی سندھ حکومت کسی طریقے سے معاوضہ ادا کر سکتی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کر دی ہے۔کمیٹی مسئلے کا جائزہ لے کر کابینہ کو رپورٹ پیش کرے گی۔
سندھ کابینہ نے محکمہ بلدیات کے 19,116 ملین روپے کے 6 منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چھ سڑکوں کے منصوبوں میں ایم-9 تا ملیر بذریعہ جناح ایونیو اور شاہراہ فیصل شامل ہے۔
ملیر ہالٹ کے قریب رائٹ ٹرن انڈرپاس، پرنٹنگ پریس تا شاہراہِ فیصل تک شامل ہے۔ شاہراہِ فیصل پر ایئرپورٹ روڈ تا اسٹار گیٹ تک فلائی اوور کی تعمیر اور وائی جنکشن تا مچھلی چوک روڈ کی بحالی شامل ہے۔
سہراب گوٹھ پر فلائی اوور کی تعمیر اور مین کورنگی روڈ سے خیابانِ سعدی بذریعہ خالق الزمان، خیابانِ اقبال، باتھ آئی لینڈ، خیابانِ جامی اور نہرِ خیام کی تعمیر شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ بلدیات کو ہدایت دی ہے کہ شہر کراچی کی ان سڑکوں کی تعمیر فوری طور پر شروع کی جائے۔