وزیراعلیٰ سندھ، وزیر اطلاعات اور مئیر کراچی مستعفی ہوں، فاروق ستار

ہمارا مطالبہ ہے کہ جوڈیشل کمیشن قائم ہونا چاہیے، ہم اس مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، رہنما ایم کیو ایم


نعیم خانزادہ January 27, 2026
فوٹو فائل

کراچی:

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ، وزیراطلاعات اور میئر کراچی تینوں کو مستعفی ہونا چاہیے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما فاروق ستار نے بہادر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ سے گل پلازہ کے  حوالے سے سوالات کیے جارہے ہیں، سوالات پر وزیراعلیٰ، مئیر کراچی اور شرجیل میمن جھنجھلاہٹ کا شکار ہورہے ہیں، 18 سال سے اقتدار نشے میں ہیں، ضد اور انا کے نئے ریکارڈ قائم کر رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ ، وزیر اطلاعات اور مئیر کراچی کو گل پلازہ سانحے سے توجہ ہٹا نے نہیں دیں گے، ہمارا مطالبہ ہے کہ جوڈیشل کمیشن قائم ہونا چاہیے، ہم اس مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، آپ ہماری سیکیورٹی واپس لیں اور آپ مقدمات بنائیں لیکن اب ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔

رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ گل پلازہ کے شہدا کو انصاف دلا کر رہیں گے، شرجیل میمن کہہ رہے ہیں کہ کسی کے کہنے پر جوڈیشل کمیشن نہیں بنائیں گے، تو آپ خود بنالیں، 18 سال سے آپ کا تمام اداروں پر قبضہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کمشنر کراچی سے تحقیقات کرائیں گے تو کس طرح قبول کریں گے، خالد مقبول صدیقی سمیت ایم کیو ایم  کے تمام لوگوں کی سیکیورٹی واپس لے لی جبکہ سیکیورٹی اداروں نے بتایا کہ ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی جان کو خطرہ ہے، ہماری سیکیورٹی کی ذمہ داری نہیں لے رہے ہیں تو کیا اسلام آباد کی پولیس ہمیں سیکیورٹی دے گی۔

فاروق ستار نے کہا کہ کراچی کے لوگ ڈمپر اور ٹرالر سے مار جا رہے ہیں، اسٹریٹ کرائم اور گٹر میں گر کر بچے جان سے جا رہے ہیں، جب آپ شہریوں کو تحفظ ہی فراہم نہیں کررہے تو آرٹیکل 141 کے تحت کراچی کو  وفاق کے حوالے کردیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف زرداری نے کہا کہ کراچی 4 کروڑ کی آبادی کا شہر ہے، گنتی کے حساب سے حکومت سندھ ذمہ داریاں پوری کر رہی، تو آپ کراچی کو وفاق کے حوالے کردیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں گورنر راج کی ضرورت نہیں ہے، کراچی کے حوالے سے تو کوئی فیصلہ کریں، بلاول بھٹو سے ڈیڑھ سال سے وقت مانگ رہا ہوں لیکن وہ وقت ہی نہیں دے رہے ہیں۔

ایم کیو ایم کے رہنما نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ سندھ ، وزیر اطلاعات اور مئیر کراچی مستعفی ہوں اور حکومت سندھ خود دستبردار ہو کیونکہ آپ کے عمل سے لگتا ہے آپ کراچی کو ڈس اون کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کا مینڈیٹ ہمارے پاس موجود ہے، گل پلازہ آپ کو نہیں  چھوڑے گا، آپ کراچی سے خود دستبردار ہو رہے ہیں اور یہ آپ اپنے عمل سے بتا رہے ہیں، آپ کراچی کو ڈس اون کر رہے ہیں،ہمیں ڈس اون کررہے ہیں تو ہمیں پھر کوئی تو اون کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ان تینوں سے استعفی نہیں مانگ رہے ہیں بلکہ بلاول بھٹو سے کہہ رہے ہیں کہ آپ ان سے استعفیٰ لیں، وزیراطلاعات اپنی مرضی سے جوڈیشل کمیشن بنالو لیکن بنا تو لو کچھ لوگوں کی سیکیورٹی واپس کردی لیکن جنہیں نہیں کی انہیں بھی واپس کریں ورنہ ہم اسلام آباد سے کہیں گے۔

فاروق ستار نے کہا کہ ہم بلاول بھٹو سے کئی امور اور سندھ کے عوام کے حق کے لیے ملنا چاہتے ہیں، اگر ہم قومی اور صوبائی اسمبلی کے ایوان میں موجود ہیں اور آپ ہمیں نہیں مان رہے تو ہمیں وفاق سے بولنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ شرافت سے جوڈیشل کمیشن بنائیں، یہ نہیں کیا تو تمہارا گھمنڈ پارا پارا ہوگا اور اس کا وقت آگیا ہے، 72 گھنٹے ہم نے کوئی سوال نہیں کیا، لوگوں اور میڈیا نے سوال کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی فرانزک لیب کی صرف عمارت ہے جو اربوں کا منصوبہ ہے، عمارت کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے، عمارت کے لیے 8 ارب خرچ کردیے گئے 
جامعہ کراچی میں اساتذہ نے اپنی چھوٹی موٹی لیب بنا لی ان سے ہی کچھ سیکھ لو۔

 فاروق ستار نے کہا کہ 2029 کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) فارغ ہے۔

مقبول خبریں