لاہور ہائیکورٹ میں سولہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔
چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے آٹھویں جماعت کی طالبہ علایا سلیم کی درخواست پر سماعت کی، جو انہوں نے اپنی وکیل شیزا قریشی کی وساطت سے دائر کی تھی۔
عدالت نے وفاقی حکومت، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سمیت دیگر متعلقہ اداروں سے ایک ہفتے کے اندر جواب طلب کر لیا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ ایک اہم معاملہ ہے اور اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سوشل میڈیا بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور تعلیمی نشوونما پر منفی اثرات ڈال رہا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
مزید کہا گیا کہ ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کمسن بچوں کی نفسیات پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ سولہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی جائے۔