عراق میں انسانی المیہ کا ذمے دار کون

امریکا نے عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔


Editorial August 16, 2014
ہ امریکا نے عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فوٹو: فائل

امریکی صدر بارک اوباما نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے عراق میں کوہ سنجر کا محاصرہ توڑ دیا ہے جو عسکریت پسندوں نے قائم کر رکھا تھا جس میں ہزاروں لاکھوں سویلین پھنس گئے تھے اور ایک بہت ہولناک انسانی المیے کی صورتحال پیدا ہو گئی تھی یہی وجہ ہے کہ امریکا نے عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کی ایجنسی نے کہا ہے کہ وہاں لاکھوں سویلین پھنس گئے تھے۔ یہ لوگ اسلامی اسٹیٹ (آئی ایس) گروپ کے جنگجوؤں کی وجہ سے کوہ سنجر کے علاقے میں پھنس گئے تھے۔ یہ پہاڑی علاقہ عراق اور شام کی درمیانی پٹی پر واقع ہے۔ اوباما نے اپنے بیان میں امریکی افواج کی مہارت اور کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام کو بھی اپنی مسلح افواج کی کارکردگی پر فخر ہونا چاہیے جنہوں نے ایک بہت درد ناک انسانی المیے کو رونما ہونے سے بچا لیا۔

صدارتی بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس دشوار گزار پہاڑی علاقے میں پھنسے ہوئے مصیبت زدہ سویلینز کے لیے فضا سے خوراک گرانے کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے امریکی فضائیہ نے 8 اگست سے یہاں ہوائی حملے شروع کیے تھے جنھیں اوباما نے بدستور جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر اوباما نے عراق میں جس انسانی المیے کا ذکر کیا ہے وہ امریکا کا ہی کیا دھرا ہے۔