گل پلازہ کے شہداء کی ایف آئی آر

گل پلازہ کی آتشزدگی قومی سانحے کے روپ میں نااہل حکمرانوں کے لیے باعث مذمت اور قومی توجہ کا مرکز بن چکی ہے


[email protected]

پاکستان کی معاشی سرگرمیوں کا مرکز، غریب پرور شہر کراچی جسے ملک بھر کے ہر شہر اور گائوں سے رزق کی تلاش میں آنے والے لوگوں نے حقیقی معنوں میں منی پاکستان بنایا ہے۔ بابائے قوم کا مدفن شہر جو عروس العباد اور روشنیوں کے شہر جیسے ناموں سے جانا پہچانا جاتا تھا، 80 کی دہائی سے اہلیان کراچی روز نت نئی مصیبتوں سے لڑ کر جی رہے ہیں۔

اہلیان کراچی کے دکھوں کی داستانوں پر کتابیں لکھی جا سکتی ہیں مگر سر دست منی پاکستان کے گل پلازہ میں ہونے والی ہولناک آتشزدگی میں درجنوں زندہ انسانوں کی جل کر راکھ ہونے والی شہادتوں اور ان کے اہل و عیال کی اذیت، پچھتاوے اور ہاتھ ملتی زندگیوں پر اپنا درد دل لکھنے کی کوشش کروں گا۔ شہداء تو چلے گئے اپنے کریم ورحیم اور اپنے بندے سے ستر گنا پیار کرنے والے رب العالمین کے پاس مگر ان کے پسماندگان کا سوشل میڈیا پر بچھڑنے والوں کے جلنے، چیخ و پکار اور مرنے سے پہلے اپنے چھوٹے بڑوں سے معافیاں مانگنے سے شروع ہونے والا کربناک امتحان، ناقابل شناخت لاشوں میں اپنوں کو ڈھونڈنے، اذیت ناک موت کے بعد جدائی، عمر بھر کا روگ، نان روٹی اور چولھے کے بجھنے جیسے سیکڑوں مسائل و مصیبتوں کا سامنا زندگی بھر کرتے رہیں گے۔

گل پلازہ کی آگ کی خون آلود تپش پورے پاکستان میں مدتوں تک محسوس ہوتی رہے گی۔ نااہل اور غاصب حکمران اتنے دن گزرنے کے باوجود یہ نہیں بتا سکے کہ شہداء، زخمیوں اور لاپتہ ہونے والوں کی حتمی تعداد کتنی ہے تو ان سے کیا گلہ کریں کہ یہ واقعہ اور حادثہ کیوں ہوا اور روشنیوں کے شہر کو حادثتان کس نے بنایا۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اب تک 71 شہداء کی لاشیں اور باقیات ملی ہیں، مسخ شدہ لاشوں کے ڈی این اے کا عمل پیچیدہ ہونے کے باعث ابھی تک صرف 16 لاشوں کی شناخت ہو سکی۔لاپتہ ہونے والوں کی تعداد شہداء کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔

یہ آتشزدگی لواحقین کے لیے نہ ختم ہونے والی اذیتوں کی داستان اور قیامت سے پہلے قیامت ہے۔ لواحقین کے لیے اپنے پیاروں کی باقیات اس حال میں وصول کرنا ایسی اذیت ہے جو موت تک ان کا پیچھا کرے گی۔ رحمن و رحیم رب العالمین تمام شہداء کی کامل مغفرت، درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر و حوصلہ عطا کرے اور ان کی نصرت اپنی غیبی خزانوں سے کریں۔

گل پلازہ کی آتشزدگی قومی سانحے کے روپ میں نااہل حکمرانوں کے لیے باعث مذمت اور قومی توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔ وہاں 1200 سے زائد دکانیں تھیں، جہاں دن بھر لاکھوں لوگوں کا آناجانا لگا رہتا تھا۔ اس آگ نے مالک، ملازم اور خریدار میں کوئی تمیز نہیں کی سب کو اپنی لپیٹ میں لیا۔ جو باپ اپنے بچوں کے لیے کھلونے، ماں باپ اور بیوی کے لیے کپڑے لینے گیا تھا ان کے بچے جلی ہوئی لاش کے منتظر ہیں۔ اس سانحے کا دردناک پہلو یہ ہے کہ کئی افراد گھنٹوں تک زندہ اور ہوش میں مدد کے منتظر دم گھٹنے سے تڑپتے مرگئے اور جل کر راکھ ہوگئے مگر انھیں بچانے کے لیے کوئی بروقت اور موثر کارروائی نہ ہو سکی۔

فائر بریگیڈ کی گاڑیاں تاخیر سے پہنچیں، دستیاب آلات ناکافی ثابت ہوئے اور ریسکیو کا عملہ بے بسی کی تصویر بن کر رہ گیا جو لوگ بچانے آئے تھے حکمرانوں کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ رسید کرکے خود موت کی آغوش میں چلے گئے۔ عمارت میں فائر الارم، فائر فائٹنگ سسٹم، ہنگامی اخراج کے راستے اور حفاظتی انتظامات کا نہ ہونا بھی حکمرانوں اور متعلقہ اداروں کی نااہلی اور رشوت خوری کا منہ بولتا ثبوت ہے در حقیقت یہ ریاستی غفلت اور ادارہ جاتی ناکامی کا شاخسانہ ہے اس لیے صوبائی حکومت، بلدیہ کراچی، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور دوسرے تمام ذمے داران کو نامزد کرکے ان پر شہداء کے قتل کا مقدمہ درج ہونا تھا مگر افسوس کہ کئی دن بعد ہومیوپیتھک قسم کی ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف درج کی گئی، پتہ نہیں اس پر کون اور کب سوموٹو لے گا؟

وزیر اعلیٰ سندھ فرما گئے کہ"ہم اس سانحے پر ایک انکوائری کمیٹی بنائیں گے جو کسی کو سزا دینے یا یہ تعین کرنے نہیں کہ کس کی غفلت سے یہ آگ لگی، بلکہ اس کا کام یہ ہوگا کہ وہ ہماری غلطیوں کی نشاندہی کرے تاکہ آیندہ ایسا واقعہ نہ ہو"۔ دوسری طرف پاکستانی قوم اس سانحے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ، ذمے داروں کا تعین اور انھیں عبرتناک سزا کا مطالبہ کر رہی ہے مگر وزیر اعلیٰ صاحب ذمے داران کو سزا کے لیے نہیں صرف غلطیوں کی نشاندہی کے لیے انکوائری چاہتے ہیں کیونکہ وہ خود بھی تو ذمے داروں کی صف میں کھڑے ہیں۔ یہ رویہ سفاکانہ، ناقابل برداشت اور شہداء کے لواحقین کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔

کراچی گزشتہ دو دہائیوں سے خونخوار آتشزدگیوں کی زد میں ہے۔ ستمبر 2012 میں ہونے والا سانحہ بلدیہ ٹائون میں اڑھائی سو سے زیادہ انسان آگ میں جل کر موت کی آغوش میں جا سوئے، دسمبر 2016 میں ریجنٹ پلازہ میں لگنے والی آگ 12 افراد کو نگل گئی، نومبر 2023 میں راشد منہاس روڈ پر واقعہ ایک عمارت میں آگ لگی اور 11 زندہ لوگ جل کر مر گئے مگر کسی ذمے دار (مجرم) کو سزا نہیں ملی۔ غلطیوں سے سبق سیکھنے کے لیے تو ایک واقعہ ہی کافی ہوتا ہے۔ یہاں تو مسلسل زندہ لوگ آگ میں جل کر مر رہے ہیں، اربوں روپے کی املاک کا نقصان ہورہا ہے آخر کب حکمران سبق سیکھیں گے اور ہوش کے ناخن لے کر ان کی روک تھام کریں گے؟

بلاول بھٹو زرداری آئے روز سندھ میں ترقی، بہتر گورننس اور عوامی فلاح کے بلند بانگ دعوے کرتے نظر آتے ہیں۔مگر سندھ میں زمینی حقیقتیں اذیت ناک اور سانحہ گل پلازہ ان دعوئوں کی نفی پر دلالت کررہا ہے۔ یہ سانحہ سندھ میں نااہل حکمرانی، رائج بدانتظامی، معدوم نگرانی اور قانون کی کمزور عملداری کی عکاس ہے،کراچی کے بدنصیب شہری کبھی گولی، بوری اور ٹارگٹ کیلرز تو کھبی ڈکیتوں ، راہزنوں اور کھبی آگ کے رحم و کرم پر ہیں۔ حکمرانوں کا بنیادی کام عوام کے جان و مال کا تحفظ ہے مگر سندھ کے حکومتی ادارے شاید موت بانٹتے پھر رہے ہیں۔ بلا تفریق پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم اور بشمول جماعت اسلامی کسی سیاسی جماعت نے کراچی کی نمائندگی کا حق ادا نہیں کیا اور ہمیشہ حل کی جگہ اس شہر کے لیے مسئلہ بنے رہے۔

صرف گل پلازہ میں تجاوزات نہیں تھیں پورے سندھ خصوصاً کراچی میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات ایک منظم کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہیں، جہاں بلڈرز ، ادارے اور سیاسی سرپرست ایک دوسرے سے جڑے نظر آتے ہیں۔ سانحہ گل پلازہ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ قانون طاقتور کے لیے نرم اور کمزور کے لیے سخت ہے جس کی قیمت اکثر اوقات عام شہری اپنی جان دے کر ادا کرتا ہے اگر اہل اختیار کی نظروں میں ان شہداء کی حیثیت ان کے ٹیبل پر پڑے سیب جتنی ہوتی تو اسی دن اس سانحہ کے ذمے داران کے خلاف سو موٹو لے کر مقدمہ درج ہوچکا ہوتا۔

پختونخوا میرا صوبہ ، کراچی اور لاہور میں تین دہائیوں سے رہ رہا ہوں۔ پنجاب میں ترقی کو اکثر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، مگر اس کے ثمرات عام شہری کی روزمرہ زندگی میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ سندھ میں مسئلہ وسائل کی کمی نہیں ، گورننس کا بحران کا ہے۔ سندھ قدرتی وسائل، بندرگاہوں اور ریونیو کے لحاظ سے مضبوط ہونے کے باوجود بدانتظامی، کرپشن اور بدترین سیاسی مداخلت و عداوت کا شکار ہے۔ بلدیاتی ادارے کمزور اور اختیارات کا ارتکاز چند ہاتھوں تک محدود نظر آتا ہے۔ اس کے برعکس پنجاب میں انتظامی ڈھانچہ نسبتاً فعال اور فیصلہ سازی کا عمل زیادہ مربوط دکھائی دیتا ہے۔

سندھ اور پنجاب کا موازنہ کریں تو تقریبا تمام شعبوں میں فرق نمایاں ہے۔ سندھ کے سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں کی حالت زار آئے روز خبروں کی زینت بنتی ہیں، جب کہ پنجاب میں ان شعبوں میں بہتری کی رفتار نسبتاً تیز رہی ہے۔ اگرچہ پنجاب بھی مسائل کے انبار لگے ہیں مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب لاوارث نہیں اس لیے حالات ناگفتہ نہیں اور اصلاحات کا عمل جاری نظر آتا ہے۔ یہ موازنہ کسی صوبے کو برتر ثابت کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایک بنیادی سوال اٹھانے کے لیے ہے، اگر پنجاب اپنی خامیوں کے باوجود آگے بڑھ سکتا ہے تو سندھ کیوں پیچھے رہ گیا؟ جب تک سندھ کے حکمران اور سیاسی قائدین اس سوال کا جواب نہیں تلاش کرتے تب تک گل پلازہ جیسے سانحات ہوتے رہیں گے اور معصوم شہری جلتے رہیں گے۔

مقبول خبریں