گل پلازہ آگ ، غزہ امن بورڈ میں شمولیت

بین الاقوامی میدان میں ٹرمپ کا قائم کردہ غزہ امن بورڈ بہت سے سوالیہ نشان چھوڑ گیا ۔


عبد الحمید January 30, 2026
[email protected]

پچھلے دنوں بہت سے اہم واقعات رونماء ہوئے لیکن ان میں سے دو واقعات خصوصی اہمیت کے حامل ہیں جن کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے۔ کراچی میں گُل پلازہ میں لگنے والی آگ بہت افسوس ناک تھی۔بیسیوں گھر اجڑ گئے اور سیکڑوں کاروبار تباہ ہو گئے۔بین الاقوامی میدان میں ٹرمپ کا قائم کردہ غزہ امن بورڈ بہت سے سوالیہ نشان چھوڑ گیا ۔

اس کے حق میں اور اس کی مخالفت میں بحث و مباحثہ جاری ہے جو بہت حد تک دو انتہاؤں کو چھورہا ہے اور بہت کم حقائق پر بات ہو رہی ہے۔گل پلازے میں لگنے والی آگ اس حوالے سے گہرے تجزیے کی طرف بلاتی ہے کہ یہ کراچی میں آتشزدگی کے واقعات کا تسلسل ہے۔جب کوئی آگ اتنے بڑے پیمانے پر تباہی مچاتی ہے تو کچھ عرصے کے لیے ہر کوئی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ جلد از جلد ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جن سے آیندہ ایسا نہ ہو لیکن پھر بھول کر اپنی اپنی روٹین کے کاموں میں الجھ جاتے ہیں۔ایسا دکھائی دینے لگتا ہے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

 ہمارے ہاں چونکہ بے حسی بڑھتی جا رہی ہے، اس لیے ایک کے بعد دوسرا حادثہ ہو رہا ہے ورنہ اچھے فلاحی معاشروں میں ایسا ہو جائے تو قیامت بپا ہو جاتی ہے اور آیندہ سدِ باب کے لیے اقدامات ترجیحی بنیادوں پر اٹھائے جاتے ہیں۔مقامی انتظامیہ اور کاروباری حضرات اس کی ذمے داری سے بچ نہیں سکتے۔ایک ایسی عمارت جس کے ستونوں میں دراڑیں پڑ چکی ہوں،جو بوسیدگی کی منہ بولتی تصویر ہو وہاں 500دکانوں کی گنجائش والی جگہ پر 1200دکانوں کا بننا صرف غیر قانونی ہی نہیں مجرمانہ غفلت کا غماز ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے گیارہ ماہ میں کراچی میں آگ لگنے کے 88واقعات ہو چکے ہیں۔جس دن گل پلازہ میں آگ لگی اس سے صرف دو دن بعد صدر کراچی کے ایک رہائشی پلازے میں ساتویں فلور پر آگ بھڑک اٹھی۔خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ یہ آگ محدود اور چھوٹی تھی،ادارے چوکس تھے اس لیے اس آگ پر جلدی قابو پا لیا گیا۔لاہور کے ایک ہوٹل میں بھی اسی دوران آگ لگی۔اس حادثے میں تین قیمتی جانیں گئیں۔ ہماری تقریباً تمام عمارتوں میں آگ بجھانے کے آلات ہوتے ہی نہیں اور عام طور پر ان کے استعمال کی جانکاری بھی نہیں ہوتی۔

 سانحہ گل پلازہ ایک قومی المیے میں بدل چکا ہے۔صفائی کا عمل ابھی تک جاری ہے۔جھلسی ہوئی انسانی باقیات ابھی تک مل رہی ہیں۔پورے پورے گھر اجڑ گئے ہیں ۔افسوس کا مقام ہے کہ سندھ اور کراچی کی سیاسی قیادت ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہے۔ایک دوسرے پر الزام تراشی ہو رہی ہے اور پوائنٹ اسکورنگ ہو رہی ہے۔یہ پہلے بھی ہوا ہے اور اب بھی کچھ مختلف نہیں ہو رہا۔اسی لیے ڈر ہے کہ کچھ پازیٹو نہیں ہونے جا رہا۔شہرِ کراچی تین سیاسی جماعتوں کے درمیان کشمکش کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔کراچی کی کئی یونین کونسلیں جماعتِ اسلامی کے پاس ہیں لیکن وہاں بھی کوئی بہتر حالات نہیں ہیں۔ کراچی کے میئر حادثے کے 23گھنٹے بعد وہاں آئے۔ ایم کیو ایم بہت واویلا کر رہی ہے لیکن کراچی کے مسائل میں اس کا بھی حصہ ہے ۔

یہ جماعت ایک لمبے عرصے تک کراچی اور حیدرآباد کے سیاہ و سفید کی مالک رہی ہے۔ مشرف کے دور میں تو اس جماعت کو بہت عروج حاصل تھا۔اگریہ کہا جائے کہ کراچی کا حلیہ بگاڑنے میں اس کا زیادہ حصہ ہے تو یہ غلط نہ ہو گا۔ پی پی پی پچھلے اٹھارہ سال سے مسلسل سندھ کے اقتدار کو انجوائے کر رہی ہے لیکن کراچی بدقسمتی کی علامت بنا ہوا ہے۔یہ شہر گندگی کے ڈھیروں سے اٹا پڑا ہے۔

سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں عمارتوں میں آگیں لگ رہی ہیں،ٹینکر مافیا کا راج ہے لیکن ہر کوئی اس کا مالک تو بننا چاہتا ہے کوئی خیر کا کام نہیں کرتا۔جناب بلاول زرداری نوجوان رہنما ہیں لیکن تنقید پر جزبز ہونا شروع کر دیتے ہیں۔وہ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ سندھ گورنمنٹ کی کارکردگی اچھی نہیں ۔ یہ جمہوری رویہ نہیں۔انھوں نے اسلام آباد میں اڑھائی گھنٹے لگا کر سندھ حکومت کے گیت گائے لیکن اگلے ہی دن گل پلازہ کا افسوس ناک حادثہ ہو گیا ۔دعا کی جا سکتی ہے کہ کراچی کی سختی ختم ہو اور یہ شہر ایک بار پھر عروس البلاد بنے۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹھہرے پانی میں مسلسل پتھر مار کر ہیجان پیدا کررہے ہیں۔اقوامِ متحدہ پہلے ہی بہت کمزور ہے، ایسے میں امریکی صدر کا اقوامِ متحدہ کے مقابلے میں اپنی سربراہی میں ایک نیا فورم بنانا عالمی انارکی پھیلانے کے مترادف ہے۔ اس وقت چین اور روس کے علاوہ دنیا کا کوئی اور ملک ٹرمپ کو ناراض نہیں کر سکتا۔وینزویلا کے صدر کا حال سبق آموز ہے۔پاکستان نے غزہ امن بورڈ میں شمولیت کر لی ہے۔وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق یہ شمولیت فلسطینی کاز کو تقویت دے گی۔یہ تو ظاہری Rationaleہے لیکن دراصل پاکستان اس پوزیشن میں نہیں کہ ٹرمپ کو انکار کر سکے۔

فرانس کے صدر میکرون نے امن بورڈ میں شمولیت نہ کرنے کا عندیہ دیا تو ٹرمپ نے فرانس پر 200فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی۔پاکستان کی کوئی بھی حکومت ہوتی یہی فیصلہ کرتی۔صدر ٹرمپ بیمار لگتے ہیں،وہ جلد Disfunctioalہو سکتے ہیں۔امریکی مڈ ٹرم الیکشن کے نتائج ٹرمپ کے لیے بھیانک ہوسکتے ہیں۔ ان کا وقت بہت دیکھ بھال کر گزارنا ہو گا۔پاکستان کی معیشت اتنی کمزور ہے کہ ایک بڑا جھٹکا اسے بے پناہ مشکلات سے دوچار کر سکتا ہے۔آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک اورایشیائی ترقیاتی بینک امریکی بی ٹیم کی طرح کام کرتے ہیں۔

ایف اے ٹی ایف بھی امریکی دانت ہے۔پاکستان کے پاس یہ آپشن ہی نہیں تھی کہ وہ شمولیت کے علاوہ اور کوئی فیصلہ کرتا۔موجودہ صورتحال میں فلسطینی ریاست کا قیام ممکن نظر نہیں آتا۔ فلسطینیوں کے لیے اگر کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے تو وہ ٹرمپ کی رائٹ سائڈ پر رہ کر ہی حاصل ہو گا۔ اور تو فی الحال کچھ ممکن نظر نہیں آتا البتہ ٹرمپ کے پلان سے فلسطینیوں کا قتلِ عام ضرور رک جائے گا اور یہ بہت حوصلہ افزا بات ہو گی۔پاکستان جہاں اور جس صورت میں ہو گا،فلسطینی کاز کو مدد ہی ملے گی۔

صدر ٹرمپ کے قائم کردہ امن بورڈ میں پاکستان اور ترکیہ سمیت آٹھ اسلامی ممالک ہیں۔ ترکیہ اور پاکستان مضبوط افواج رکھنے کی وجہ سے مل کر ایک موئثر قوت اور آواز بنتے ہیں۔غزہ میں جو ہونے جا رہا ہے اس سے ٹرمپ کے خاندانی کاروبار کو بڑھاوا ملے گا۔دوسراا غزہ تو ایک بہانہ ہے ،اصل مقصد اقوامِ متحدہ کے مقابلے میں ایک متبادل ادارے کا ممکنہ قیام لگتاہے۔اس ابتدائی عمل میں پاکستان کی شمولیت اچھے نتائج لا سکتی ہے۔امید کرنی چاہیے کہ ہماری شمولیت پاکستان اور فلسطین دونوں کے لیے نقصان دہ نہیں ہوگی۔مجھے داخلی سیاسی و معاشی محاذ،بین الاقوامی سفارتی محاذ سے بہت مشکل نظر آتا ہے۔

مقبول خبریں