تشویش کی بات یہ ہے کہ پمز اسپتال میں کوئی ریٹینا اسپیشلسٹ ہے ہی نہیں، وزیراعلیٰ کے پی

آنکھوں کے معائنے کا فیملی اور وکلا کو نہیں بتایا گیا جبکہ پانچ دن حکومت اس کی نفی کرتی رہی، سہیل آفریدی


ویب ڈیسک January 30, 2026
فوٹو: فائل

اسلام آباد:

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ بات اڈیالہ سے پمز تک پہنچ گئی لیکن اہل خانہ کو نہیں بتایا گیا، سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ پمز اسپتال میں کوئی ریٹینا اسپیشلسٹ ہے ہی نہیں۔

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا آپریشن ہوا اور ہم سے چھپایا گیا، ان کو اسپتال لے جایا گیا اور وقت بھی صحیح نہیں بتایا گیا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو جب بیماری لاحق ہوئی تو جیل میں اس کا معائنہ ہوا ہوگا، اس معائنے کا فیملی اور وکلا کو نہیں بتایا گیا۔ پانچ دن حکومت اس کی نفی کرتی رہی۔

انہوں نے کہا کہ ہم کل بھی اڈیالہ کے باہر بیٹھے رہے، ہم چیف جسٹس سے ملنے آئے تھے لیکن رجسٹرار سے ملاقات ہوئی ہے، جب تک اندر سے کوئی جواب نہیں آتا ہم یہیں بیٹھے ہیں۔

وزیراعلیٰ کے پی کا کہنا تھا کہ ہماری بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی، ہمارے پاس اور آپشنز بھی موجود ہیں۔

ایکسپریس نیوز نے سہیل آفریدی سے سوال کیا کہ اسلام آباد کی مقام عدالت نے آپ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں، کیا آپ کو مل گئے ہیں؟

سہیل آفریدی نے جواب دیا کہ مجھے تو نہیں پتہ کون سے وارنٹ اور کس کیس میں ہیں۔

صحافی نے مزید سوال کیا کہ اگر آپ کو یہاں سے گرفتار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو کیا کریں گے؟ سہیل آفریدی نے جواب دیا کہ میں تو چاہتا ہوں یہ مجھے گرفتار کریں، میں تیار ہوں، کوئی مجھے گرفتار کرنے آئے۔

مقبول خبریں